رسائی کے لنکس

logo-print

گوگل صرف درخواست گزار ملک سے ہی معلومات ہٹائے، یورپی یونین عدالت


Britain Google Walkout

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے منگل کے روز فیصلہ دیا کہ گوگل کے لیے لازمی نہیں ہے کہ وہ حساس نجی معلومات کو دنیا بھر کے لنکس سے ہٹا دے۔

یورپی کورٹ آف جسٹس کے صدر کائن لینارٹس کا کہنا تھا کہ اس شق کے تحت جب کسی سرچ انجن کا آپریٹر کسی مواد کو ہٹانے کی درخواست دیتا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ اسے ہٹا دے۔ لیکن اپنے انجن کے تمام ورژنز سے نہیں بلکہ صرف تمام متعلقہ رکن ملکوں کے ورژنز سے۔

گوگل زور دے چکا ہے کہ سرچ انجن کے نتائج کو ہٹانے کے بارے میں یورپی یونین کے قانون کو گوگل ڈاٹ کام کے اس کے ڈومین تک یا ان ملکوں تک نہیں پھیلا دیا جانا چاہیے جو یورپی یونین میں شامل نہیں ہیں۔

لیکن یورپی یونین کی کورٹ آف جسٹس نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ سرچ انجن کے آپریٹر کو انٹر نیٹ کے یوزرز کو اس معلومات کی تلاش میں یورپی یونین سے باہر کے ملکوں تک جانے کی حوصلہ شکنی کے لیے نئے اقدامات کرنے چاہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ کیس معلومات کے حصول کے عوامی حق کے خلاف ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق خدشات سے نمٹنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

یورپی یونین نے 2012 میں تجویز دی تھی کہ لوگوں کو انٹرنیٹ پر بھلا دیے جانے کا حق حاص ہے، لیکن یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ سال انٹرنیٹ کے یوزرز کے لئے مخصوص معلومات کو مٹا دینے کے حق کی یقین دہانی کے بعد یہ تجویز کمزور پڑ گئی اور اس وقت بھلا دیے جانے کا ضابطہ صرف یورپی یونین کے ملکوں کے اندر ہی باقی ہے۔

پرائیویسی کے حقوق پر نظر رکھنے والی فرانس کی تنظیم سی این آئی ایل نے گوگل پر 2016 میں ایک لاکھ دس ہزار ڈالر کا جرمانہ کیا تھا، جب اس نے درخواست کے جواب میں دنیا بھر کے لنکس سے سرچ نتائج کی حساس معلومات ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

امریکہ کی ٹیکنالوجی کی اس بڑی کمپنی اور فرانس کے پرائیویسی ریگو لیٹرز کے درمیان اس تاریخی فیصلے کو یہ تعین کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا گیا تھا کہ آیا یورپی یونین کے ضابطوں کا یورپی سرحد سے باہر کے علاقوں پر اطلاق کیا جائے یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG