رسائی کے لنکس

logo-print

معاشی بحران کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا: حکومت


حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے انتخابات سے پہلے بارہا یہ کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو کسی صورت آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کریں گے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت بیل آؤٹ پیکچ کے لیے عالمی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی لیکن ملکی معیشت کو درپیش بحران کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

ان کے بقول پاکستان کو رواں سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے آٹھ ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس ادائیگی کے لیے بین الاقوامی ادارے سے رجوع کرنا پڑا ہے۔

فواد چودھری کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حزبِ مخالف کی جماعتیں آئی ایم ایف کے سے رجوع کرنے کے فیصلے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے انتخابات سے پہلے بارہا یہ کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو کسی صورت آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کریں گے۔

فواد چودھری نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں حزبِ اختلاف کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہماری پالیسی نہیں تھی اور حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان کے اندرونی وسائل سے ہی معاملات چلا سکیں۔

لیکن ان کے بقول اس وقت پاکستان کے پاس صرف ڈیڑھ مہینے تک کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں۔

وزیرِ اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ مجبوراً کیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ مجبوراً کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کو سالانہ 28 ارب ڈالر کے وسائل چاہئیں جب کہ رواں سال پاکستان کو قرضے کی مد میں آٹھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسد عمر کی قیادت میں پاکستانی وفد 'آئی ایم ایف' کے حکام سے بات چیت کے لیے ملائیشیا میں ہے جہاں وہ عالمی مالیاتی ادارے کے حکام سے پاکستان کے لیے بیل آؤٹ پیکج پر بات کرے گا۔

حکومت کی طرف سے 'آئی ایم ایف' سے مزید قرض لینے کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔

اس دورے کے متعلق پاکستانی حکام کا مؤقف تھا کہ آئی ایم ایف کے وفد کا یہ معمول کا دورہ تھا جس کا تعلق کسی نئے قرض کی درخواست سے نہیں تھا۔

حکومت کے 'آئی ایم ایف' سے مزید قرض لینے کے فیصلے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حال ہی میں حکومت نے بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ بلا واسطہ اور بلواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پہلے سے آئی ایم ایف کے ساتھ کسی ممکنہ بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت کر رہی تھی۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔ (فائل فوٹو)
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔ (فائل فوٹو)

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مصدق ملک نے کہا آئی ایم ایف کاوفد ایک پروگرام کے تحت آتا ہے اور یہ ملاقاتیں پہلے سے طے کی جاتی ہیں۔

ان کے بقول اگر حکومت 'آئی ایم ایف' سے بات چیت کر رہی تھی تو اسے اس بارے میں غلط بیانی نہیں کرنا چاہیے تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی نفیسہ شا ہ کا کہنا ہے کہ اقتصادی ماہرین مسلسل سے یہ کہہ رہے تھے کہ اقتصادی مشکلات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس سوائے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے اور کوئی آپشن نہیں ہے۔

لیکن ان کے بقول حکومت کی طرف سے اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کا ملکی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسد عمر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ حکومت نے ملک کو درپیش ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے عدم توازن کے پیشِ نظر بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اسد عمر نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا مقصد معاشی بحالی کا مستحکم پروگرام وضع کرنا ہے جس کے ذریعے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

پاکستان میں رواں ہفتے ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب کہ اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہے۔
پاکستان میں رواں ہفتے ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب کہ اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہے۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ایسا پیکج تیار کیا جائے گا جس کا کم آمدنی والے لوگوں پر کم سے کم اثر پڑے اور اصل بوجھ صرف مال دار شہریوں کے کاندھوں پر ہی ڈالا جائے۔

لیکن مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سبسڈی ختم کرنے کا کہے گا جو اس ملک میں غریب آدمی کو ملتی ہے۔

ان کے بقول کم بجلی استعمال کرنے والوں کو ملک میں لگ بھگ 150 سے 175 ارب کی سالانہ سبسڈی دی جاتی ہے جو آئی ایم ایف ختم کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

مصدق ملک نے کہا کہ آئی ایم ایف مزید ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر کم کرنے کی شرط بھی عائد کرسکتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھے گی اور اس کا بوجھ زیادہ تر کم آمدنی والے افراد پر پڑے گا۔

پیر کو حکومت کی جانب سے 'آئی ایم ایف' سے قرض لینے کے اعلان کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر پر #IMFNahiJaonGi پیر کی شب سے ٹاپ ٹرینڈ ہے جس کے ذریعے کئی لوگ تحریکِ انصاف اور وزیرِ اعظم عمران خان کو قرض نہ لینے اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے ان کے ماضی کے اعلانات یاد دلا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG