رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض مانگا تو امریکہ مخالفت نہیں کرے گا'


فائل فوٹو

'رائٹرز' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیرِ اطلاعات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ یقین دہانی گزشتہ بدھ کو اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اعلیٰ حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران کرائی۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران یقینی دہانی کرائی ہے کہ اگر اسلام آباد نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکچ کی درخواست کی تو واشنگٹن اس درخواست کی مخالفت نہیں کرے گا۔

فواد چودھری نے یہ دعویٰ منگل کو خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کیا۔

'رائٹرز' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیرِ اطلاعات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ یقین دہانی گزشتہ بدھ کو اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اعلیٰ حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران کرائی۔

تاہم یہ بیان مائیک پومپیو کے رواں سال جولائی میں دیے گئے بیان کے برعکس ہے جس میں انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ امریکہ آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو ایسے کسی بھی ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کی فراہمی پر اعتراض کرے گا جس کی رقم پاکستان چین سے لیے جانے والے قرضے اتارنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہو۔

امریکہ وزیرِ خارجہ کا یہ بیان پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث بنا تھا کیوں کہ تجارتی خسارے اور تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے اگر پاکستان کو اس کے دیرینہ اتحادیوں - چین اور سعودی عرب - نے کسی قرضے کی پیش کش نہ کی تو اس صورت میں پاکستان کے پاس 'آئی ایم ایف' سے رجوع کرنے کے علاوہ شاید کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔

فواد چودھری نے رائٹرز کو بتایا کہ پومپیو کے دورۂ اسلام آباد سے پہلے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں "تعطل" تھا تاہم ان کے بقول اس دورے سے "بہت ساری چیزیں بہتر ہوئی ہیں" اور "تعلقات کو نئی توانائی ملی ہے۔"

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا ردِ عمل

فواد چودھری کے بیان پر ردِ عمل کے لیے رابطہ کرنے پر امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے وائس امریکہ کی نامہ نگار نائیکی چنگ کو بتایا کہ واشنگٹن پاکستان کو خوش حال دیکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔

امریکی ترجمان کا مزید کہنا تھا، "ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے اعانت کی درخواست نہیں کی ہے۔ اگر وہ اعانت کی درخواست کرتے ہیں تو ہم تمام پہلوؤں کو ویسے ہی بغور جائزہ لیں گے جیسے قرضے کی دیگر درخواستوں کا لیتے ہیں۔"

پاکستان میں گزشتہ ماہ برسرِ اقتدار آنے والی والی نئی حکومت ملک کے کم ہوتے ہوئے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے پیدا ہونے والے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے داخلی پالیسیاں سخت کر رہے ہیں تاکہ آئی ایم ایف سے کسی بیل آؤٹ پیکچ کے لیے رجوع نہ کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ پاکستان 1980ء کی دہائی سے اب تک 14 بار آئی ایم ایف سے قرض کے لیے رجوع کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG