رسائی کے لنکس

logo-print

یونان اور قرضہ دہندگان کی بات چیت ناکام، ’ہنگامی حالات‘ کا خدشہ


اِس دگرگوں صورت حال کے باوجود، یونان کے وزیر اعظم جمعرات کو روس کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، اُسی روز جب یورو زون کے وزرائے مالیات لگزمبرگ میں اہم اجلاس منعقد کرنے والے ہیں جس میں یونان کے تعطل کا جائزہ لیا جائے گا

قرضہ نادہندگی (ڈفالٹ) اور یورو سے امکانی علیحدگی کی صورت حال سے بچنے کے لیے، یونان اور قرضہ دہندگان کے درمیان بات چیت میں ناکامی کے بعد، یورپی یونین کے کمشنر نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ’ہنگامی حالات‘ سے نمٹنے کی تیاری کی جائے۔

وزیر اعظم الیگزس سپراس نے کہا ہے کہ یورپی سربراہان کی جانب سے فوری اقدام کرنے کے مطالبے پر توجہ نہیں دی گئی۔

برعکس اِس کے، اُنھوں نے اتوار کے روز شکایت کی کہ قرضہ دہندگان نے ’اصلاحات کے بدلے نقدی‘ فراہم کرنے سے انکار کیا۔ تجزیہ کار اِسے یونان کی معاشی صورت حال کو سہارا دینے کی غرض سے مزید امداد کے حصول کے لیے ایک طویل عرصے سے جاری مذاکرات کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔

جرمنی اور دیگر قرضہ دینے والے اہم ملکوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونان کی حکومت ہوش سے کام لے اور نئی تجاویز پیش کرے۔

فوکر کوندر، چانسلر آنگلہ مرخیل کی قدامت پسند پارٹی کے پارلیمانی ایوان کے قائد ہیں۔ اُنھوں نے ’آے آر ڈی ٹیلی ویژن‘ کو بتایا کہ میں یہ بندوبست قبول نہیں کرتا کہ یونان خود ہی شرائط طے کرے اور سب سے توقع رکھے کہ وہ اسی دھن پر رقص کریں۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ یونان حقائق کا سامنا کرے۔

یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ مصالحتی کوششیں تب ہی جاری ہو سکتی ہیں، اگر یونان نئی تجاویز پیش کرے؛ جب کہ حکومت یونان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یونان تنخواہوں اور پینشن میں کٹوتی اور بنیادی اشیا پر اضافی ٹیکس کے معاملے کو مسترد کرتا ہے۔

یونان کے ترجمان، گیبریئل ساکے لاریدس کے بقول، ’ہمیں جتنا سوچنا تھا، سوچ چکے ہیں‘۔

یونان کے پاس اب محض دو ہفتے کا وقت باقی ہے جس دوران وہ درپیش تعطل کو دور کرنے میں پیش رفت کرے، وگرنہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو 1.6 ارب یورو کی ادائگی کرنی ہوگی؛ جس صورت میں اُس کے پاس نقدی باقی نہیں ہوگی، وہ ادھار بھی نہیں لے سکتا اور سکے کی شرح تبادلہ میں مشکلات درپیش آئیں گی۔

اِس دگرگوں صورت حال کے باوجود، سپراس جمعرات کو روس کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، اُسی روز جب یورو زون کے وزرائے مالیات لگزمبرگ میں اہم اجلاس منعقد کرنے والے ہیں جس میں یونان کے تعطل کا جائزہ لیا جائے گا۔ وہ ہفتے تک روس ہی میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں وہ سینٹ پیٹس برگ میں معاشی مذاکرے میں شرکت کریں گے اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملیں گے۔

یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یونان کی جانب سے جمعرات تک بہتر تجاویز سامنے نہیں آتیں، تو یورو گروپ انتہائی سختی سے پیش آئے گا، اور عین ممکن ہے کہ وہ یونان کو کوئی الٹی میٹم دے۔

اہل کار نے کہا کہ ’اب نئی تجاویز کی ضرورت نہیں؛ میرے خیال میں، اِنھیں قبول کریں یا نہ کریں یہ ہم ہی پر منحصر ہے۔ یا پھرصورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے‘۔

XS
SM
MD
LG