رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی سائنس دان ، واصف فاروق نے جرمن ریسرچ ایوارڈ جیت لیا


صوبہٴ پنجاب کے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ واصف پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا یہ پراجیکٹ جرمنی میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے 'گرین ٹیلنٹس مقابلے 2016 'میں شامل تھا

جرمنی میں ہونے والی پائیدار ترقی پر ریسرچ کے ایک بین الاقوامی مقابلہ میں پاکستان کے ایک سائنس دان، واصف فاروق تحقیقی منصوبے کے لیے ’گرین ٹیلنٹس ایوارڈ' جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر واصف فاروق نے بائیو فیول کی پیداوار کے لیے فوسل فیول پر انحصار کرنے والے کارخانوں اور بجلی گھروں میں سبز کائی سےتیار کردہ ٹیکنالوجی کےموثر استعمال کا منصوبہ پیش کرنے پر جرمن وزارت برائے تعلیم اور تحقیق کا ریسرچ ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہٴ پنجاب کے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ واصف پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا یہ پراجیکٹ جرمنی میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے 'گرین ٹیلنٹس مقابلے 2016 'میں شامل تھا۔

آٹھویں گرین ٹیلنٹس مقابلے کے لیے دنیا کے 104 ممالک سے 750 امیدواروں نے اپنی تحقیق پیش کی تھی جس میں سے 16 ممالک سے 25 شاندار ذہنوں کے مالک محققین کو گرین ٹیلنٹس ایوارڈ کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔

جمعرات 27 اکتوبر کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہونے والی گرین ٹیلنٹس ایوارڈ کی ایک شاندار تقریب میں وزیر تعلیم اور تحقیق پروفیسر جوہانا وانکا نے بہترین تحقیقی منصوبہ پیش کرنے والے کامیاب سائنس دانوں کو ایوارڈ سے نوازا.

جیوری نے پاکستان میں پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول میں مدد کرنے پر واصف فاروق کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کی دریافت نمایاں طور پر پاکستان میں قومی سطح پر گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کو کم کر سکتی ہے اور صنعتی شعبے میں اس عمل سے اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

ڈاکٹر واصف فاروق نے ایوارڈ جیتنے کے بعد وائس آف امریکہ اردو سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے کسی حد تک امید تھی کہ مجھے ایوارڈ مل سکتا ہے۔ لیکن، یقین نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک بڑا سخت مقابلہ تھا‘‘۔

ڈاکٹر فاروق نے جنوبی کوریا میں کیمیکل کے شعبے اور بائیو مالیکولولر انجنیئرنگ سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ کئی سائنسی مطالعوں کے مصنف یا شریک مصنف ہیں اور ایک عرصے سے بائیو فیول کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ’ایلجی‘ (خوردبینی جرثوموں) پر تحقیق کررہے ہیں.

انھوں نے بتایا کہ اُن کا پراجیکٹ مائیکرو ایلجی، یعنی مایئکروبز پر تھا، جو دراصل سمندر کی سطح پر پائی جانے والی سبز یا نیلے رنگ کی کائی ہے اور یہ وہ پہلا مائیکرو آرگنزم تھا جو زمین پر آکسیجن کی موجودگی کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق نےکہا کہ انھوں نے اپنی تحقیق میں صنعتی عمل میں فوسل ایندھن کے استعمال کے منفی ماحولیاتی اثرات کو کم کرنےکے لیے روایتی بجلی گھروں میں مائیکرو ایلجی بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بجلی گھروں سےخارج ہونے والی کاربن عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے ان کی تحقیق کاربن ڈائی آکسائیڈ کےقبضے اور اس کےذخیرے کے لیے ایک بہتر میکانزم بنانے پر تھی جس کے لیے انھوں نے اپنی مائیکرو ایلجی بائیو ٹیکنالوجی کی معلومات کا استعمال کیا ہے۔

انھوں نے اپنے پراجیکٹ کی تفصیلات کےحوالے سے بتایا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پودوں کا فوٹو سینتھسس عمل (جس کے ذریعے پودے اپنی خوراک تیار کرتے ہیں) کے لیےکاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑا ذریعہ ہمارے روایتی بجلی گھر ہیں جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کررہے ہیں۔ لہذا، اگر کاربن کو وہاں پر ہی جمع کرلیا جائے تو یہ آگے مائیکرو ایلجی کی افزائش میں مدد کرے گی۔ اس عمل کے دوران، مائیکرو ایلجی کاربن لیتی ہے اور آکسیجن ہوا میں واپس چھوڑتی ہے اور اپنے اندر تیل یا پروٹین یا بھر شوگر کے مالیولز کا ذخیرہ کر لیتی ہے اور یہ جو مالیکولز ہیں انھیں مختلف طریقےسے استعمال کیا جا سکتا ہے.

ڈاکٹر فاروق کے مطابق، ان کا متعارف کرایا گیا طریقہ کار صنعتی عمل میں دوہرا کام کر سکتا ہے، کیونکہ ایک تو یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کےاخراج کی شرح میں کمی لا سکتا ہے، دوسرا یہ طریقہ کار فوٹو سینتھسس عمل کے ذریعے کاربن کو سبز توانائی میں تبدیل کرسکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ایک کسان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انھیں آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ بقول اُن کے، ’’میں سمجھتا ہوں اگر آپ کے پاس ایک اچھا آئیڈیا ہے اور آپ محنت کرنے والے ہیں تو دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فی الحال حکومت تحقیق کےحوالے سے تعاون فراہم کر رہی ہے۔ حال ہی میں ہم نے اسی موضوع پر ایچ ایس سی میں ایک پراجیکٹ جمع کرایا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں پہلی بار پاکستان میں انڈسٹری کے ساتھ اس پراجیکٹ پر کام کرنے کا موقع مل جائے گا۔

گرین ٹیلنٹس کی ترجمان کیرولین شوئٹزا نے بتایا کہ گرین ٹیلنٹس ایوارڈ جیتنے والے سائنس دانوں کو جرمنی کے دو ہفتے کے دورے پر مدعو کیا گیا ہے۔

یہ ایوارڈ تین حصوں پر مشتمل ہےجہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے محققین کو پائیدار تحقیق کے معروف اداروں اور کمپنیوں کا دورہ کرایا جاتا ہے اور طلبہ سائنس فورم میں شرکت کرتے ہیں۔ انفرادی تقرریوں کے مرحلے میں کامیاب طلبا اپنے پسند کے ماہرین اور سائنس دانوں سے ملاقات کرنے کے لیے اپنے طور پر جرمنی کا دورہ کرتے ہیں، جبکہ انعام حاصل کرنے والے محققین کو گرین ٹیلنٹس کے منتخب کردہ ادارے میں تحقیقی منصوبے پر کام کرنے کے لیےآئندہ برس پھر سے مدعو کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پائیداری کا خیال سائنس دانوں کے ذہنوں سے منتقل ہو کر سیاسی اور عوامی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ کوئی ایک ادارہ یا ملک حتمی طور پر اس کا حل پیش نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے دنیا بھر سے روشن دماغوں کی ضرورت ہے۔ اسی لیے اس خیال کو ایک عملی تصور میں تبدیل کرنے کے لیے ہر سال جرمن حکومت کی طرف سے بین الاقوامی گرین ٹیلنٹ مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG