رسائی کے لنکس

logo-print

گرین لینڈ میں برفانی تہہ کا تیزی سے پگھلاؤ


گرین لینڈ

ماہرین کا کہناہے کہ سٹیلائٹس ڈیٹا کے پیش نظر گذشتہ 30 سال کے دوران قطبی علاقے میں برف پگھلنے کی یہ رفتار سب سے زیادہ ہے

تین سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے شواہد سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ بحرہ قطب جنوبی کے برف پوش علاقے گرین لینڈ میں اس ماہ کے شروع میں غیر معمولی انداز میں بڑے پیمانے پر برف پگھلی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہاہے کہ سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے مواد سے معلوم ہوا ہے کہ گرین لینڈ کی ساحلی کناروں میں برف کی تین اعشارہ دو کلومیٹر موٹے حصے میں 8 جولائی سے 40 فی صد پگھلاؤ ہوا اور اگلے چارروز میں برف پگھلنے کی رفتار 97 فی صد تک بڑھ گئی۔

ماہرین کا کہناہے کہ سٹیلائٹس ڈیٹا کے پیش نظر گذشتہ 30 سال کے دوران قطبی علاقے میں برف پگھلنے کی یہ سب سے زیادہ رفتار ہے۔

شمال مشرقی امریکی ریاست نیوہمشائر کے ڈارٹ ماؤتھ کالج کے ایک سائنس دان کا کہناہے کہ 1889ء سے اب تک اتنی بڑی مقدار میں برف پگھلنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ناسا کا کہناہے کہ بڑے پیمانے پر بڑف کا پگھلاؤ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب گرم ہواؤں کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آرہاہے۔ یہ دباؤ گرین لینڈ کی برفانی تہہ پر 11 جولائی کو ظاہر ہونے کے بعد پانچ روز تک وہاں موجود رہا۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ فی الحال وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آیا برف کا موجودہ غیر معمولی پگھلاؤ قدرتی عمل کا حصہ ہے یا اس کا تعلق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آب وہوا کی تبدیلیوں سے ہے۔

گذشتہ ہفتے ناسا کے ایک سیٹلائٹ نے گرین لینڈ کے سب سے بڑے گلیشیئر پیٹر مین سے برف کے ایک بہت بڑے ٹکڑے کے ٹوٹ کر الگ ہوجانے کی تصاویر اتاریں تھیں۔ اس ٹکڑے کا حجم تقریباً120 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے نیویارک شہر کے مساوی تھا ۔
XS
SM
MD
LG