رسائی کے لنکس

logo-print

گوانتانامو بے مقدمہ: اعترافِ جرم کارروائی کاحصہ ہوگا


گوانتانامو بے کیوبا کے امریکی قیدخانے کےکم عمر ترین قیدی کے خلاف منگل سے مقدمے کا آغاز ہورہا ہے، جب کہ مقدمے کی کارروائی سے قبل ہی استغاثے کے حق میں ایک اہم حکم نامہ سامنے آچکا ہے۔

کینیڈا کے شہری عمر خضر صرف 15برس کے تھے جب اُنھیں 2002ء میں امریکی افواج نے افغانستان سے اُس وقت پکڑلیا تھا جب اُنھوں نے القاعدہ کی مشتبہ پناہ گاہ سے لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ اُن پر امریکی فوج کے فرسٹ کلاس سارجنٹ، کرسٹوفر اسپیر پر دستی بم کا وار کرکے ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

خضر کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ امریکی تفتیش کاروں نےاعترافِ جرم کرانے کے لیےاُن کے مؤکل پر اذیت اور خوف کے حربے استعمال کیے، جس میں اُن کے خلاف اجتماعی بد فعلی کی دھمکی دینا بھی شامل تھی۔

لیکن پیر کے روز ایک امریکی فوجی جج نے حکم جاری کیا کہ مقدمے کے دوران خضر کے اعترافی بیان کو شامل ِ کارروائی کیا جاسکتا ہے۔

سزا کی صورت میں، کینیڈا کے کم عمر شہری کو، جو اب 23سال کے ہیں ،عمر قید ہوسکتی ہے۔ اُن پر قتل، سازش اور جاسوسی کے الزامات عائد ہیں۔

اُنھوں نے 30سال قید کاٹنے کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے، جِن میں سے پانچ برس گوانتانامو میں جب کہ باقی 25سال کینیڈا میں کاٹنے کےلیے کہا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG