رسائی کے لنکس

بھارت: گجرات میں انتخابات کا آغاز، بی جے پی کی مقبولیت کا امتحان


بی جے پی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے مسلسل ساتویں بار ریاست میں حکومت بنانے کے لیے  پرامید ہے۔
بی جے پی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے مسلسل ساتویں بار ریاست میں حکومت بنانے کے لیے  پرامید ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست اور ان کی سیاست کے گڑھ گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس الیکشن کو ملک میں 2024 کے عام انتخابات سے قبل حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مقبولیت کا امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

گجرات کی ریاستی اسمبلی کی 182 نشستوں کے لیے دو مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ جمعرات کو 89 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے اور بقیہ 93 نشستوں پر پانچ دسمبر کو الیکشن ہوں گے۔

بھارتی اخبار 'ہندوستان ٹائمز' کے مطابق گجرات انتخابات میں مجموعی طور پر 39 جماعتوں کے 788 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جب کہ دو کروڑ 39 لاکھ رائے دہند گان ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔

حکمران جماعت بی جے پی اور گجرات کی ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں پہلی بار حصہ لینے والی 'عام آدمی پارٹی' کے ساتھ ساتھ کانگریس کے درمیان مقابلے پر مبصرین کی نظریں ہیں۔

بی جے پی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے مسلسل ساتویں بار ریاست میں حکومت بنانے کے لیے پرامید ہے لیکن کوئی بھی غیر متوقع نتیجہ 2024 کے عام انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ریاست گجرات کے انتخابات میں دو کروڑ 39 لاکھ رائے دہند گان ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔
ریاست گجرات کے انتخابات میں دو کروڑ 39 لاکھ رائے دہند گان ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ملک کے مغرب میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع ریاست گجرات میں 1995 کے بعد سے مسلسل بی جی پی حکومت بناتی آئی ہے۔ نریندر مودی 2014 میں ملک کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے سے قبل 13 سال تک گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔

سال 1995 میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے 121 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد 1998 میں 117 نشستیں، 2002 میں 127 نشستیں، 2007 میں 117 نشستیں، 2012 میں 115 نشستیں جب کہ 2017 میں 99 نشستیں بی جے پی کے نام رہیں۔

پانچ برس قبل 2017 میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کانگریس نے 77 نشستیں حاصل کی تھیں۔

انتخابات کا سالبی جے پی کی نشستیں
1995121
1998117
2002127
2007117
2012115
201799

’رائٹرز‘ کے مطابق انتخابات سے قبل ہونے والے جائزوں میں سامنے آیا ہے کہ بی جے پی با آسانی ایک بار پھر ریاست میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ 182 کے ایوان میں حکومت بنانے کے لیے 92 نشستیں درکار ہیں۔

دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی حزبِ اختلاف کی جماعت کہلانے والی کانگریس کے مقابلے میں 10 سال پہلے وجود میں آنے والی جماعت عام آدمی پارٹی کو ان انتخابات میں اہم ترین اپوزیشن پارٹی قراد دیا جا رہا ہے۔

بی جے پی کو امید ہے کہ وہ 130 سے زائد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ دوسری جانب رائے عامہ کے جائزوں سے واضح ہو رہا ہے کہ کانگریس 40 سے 50 جب کہ عام آدمی پارٹی کو 15 سے 25 نشستیں مل سکتی ہیں۔

گجرات میں پہلے مرحلے میں ہونے والے الیکشن میں سب سے اہم شہر سورت ہے جو ریاست کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا شہر بھی ہے۔ جمعرات کو یہاں پولنگ اسٹیشنر کے باہر ووٹرز کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔

'رائٹرز' کے مطابق بھارت میں مہنگائی اور بے روزگاری کے باوجود وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کو مقبولیت حاصل ہے جب کہ دیگر ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں بھی اسے کامیابی ملتی رہی ہے۔

بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں ملنے والی کامیابی کی حالیہ مثال ریاست ہماچل پردیش کی ہے جہاں انتخابات میں بے جے پی کی کامیابی کا باضابطہ اعلان آٹھ دسمبر کو کیا جائے گا۔

دہلی اور پنجاب میں برسرِ اقتدار عام آدمی پارٹی نے گجرات میں انتخابات سے قبل رائے دہندگان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہاں بھی بجلی کے بلوں پر سبسڈی دے گی۔ مبصرین اس معاملے کو بی جے پی کے لیے کسی حد تک چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب کانگریس کو امید ہے کہ وہ ریاست میں کسی حد تک اپنی مقبولیت میں اضافے سے مزید نشستیں اپنے نام کر سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ کانگریس میں پارٹی انتخابات میں صدر کی تبدیلی ہوئی تھی البتہ اس سے قبل ستمبر میں پارٹی کے اہم رہنما راہل گاندھی ملک گیر یاترا پر روانہ ہوئے تھے جس کے تحت وہ مختلف شہروں اور قصبوں میں جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو کانگریس کی جانب راغب کر سکیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس کی یہ یاترا گجرات میں اس کے لیے زیادہ معاون ثابت نہیں ہو گی۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG