رسائی کے لنکس

جماعت الدعوۃ کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر


فائل

حافظ سعید نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جس آرڈیننس کے تحت جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ پاکستانی آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے اپنی جماعت اور اس کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کرنے اور دونوں تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے حکومت کے قانونی اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

پاکستانی حکومت نے گزشتہ ماہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ان شدت پسندوں تنطیموں پر پابندی عائد کردی تھی جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تعزیرات عائد کر چکی ہے۔

حافظ سعید نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جس آرڈیننس کے تحت جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ پاکستانی آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

انہوں نے اس بنیاد پر عدالت سے مذکورہ آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس درخواست کی سماعت 23 اپریل کو مقرر کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو معاملے پر جواب داخل کرنے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔

حافظ سعید کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے جماعت الدعوۃ سے منسلک ملی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر نہ کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اپنے اقدام پر نظرِ ثانی کی ہدایت کی تھی۔

حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کا شمار ان تنظیوں میں ہوتا ہے جن پر اقوامِ متحدہ اور امریکہ تعزیرات عائد کر چکے ہیں اور حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

پاکستان کو مؤقف رہا ہے کہ وہ شدت پسندوں تنظیموں کی سرگرمیوں کی بلاتفریق نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم امریکہ سمیت بعض دیگر ممالک پاکستان کی حکومت کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت اب ان افراد اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے تعزیرات عائد کر رکھی ہیں۔

بعدازاں وفاقی اور بعض صوبائی حکومتوں نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے کئی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG