رسائی کے لنکس

logo-print

'صدارتی آرڈیننس کی معیاد ختم، جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت کالعدم نہیں رہیں’


فائل

پاکستان کی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت جاری کیے گئے جس آرڈیننس کے ذریعے حافظ سعید سے منسلک جماعت الدعوہ اور فلاحِ انسانیت پر پابندی عائد کی گئی ہے، اس کی معیاد ختم ہونے کے بعد یہ تنظیمیں کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں رہی ہیں۔

پاکستانی حکومت نےرواں سال فروری میں انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ان شدت پسندوں تنطیموں پر پابندی عائد کردی تھی جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تعزیرات عائد کر چکی ہے۔

حافظ سعید نے بعد ازاں حکومت کے اس اقدام کو اسلام آباد میں چلنج کرتے ہوئے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ آرڈیننس پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ہے۔ اس بنا پر انہوں نے عدالت سے اسے کالعدم قرار دینے کی درخواست کی۔

جمعرات کو جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں اس درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو حافظ سیعد کے وکیل رضوان عباسی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ آرڈیننس کی معیاد ختم ہو گئی جس کے تحت جماعت الداعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

رضوان عباسی نے جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ موجودہ حکومت نے نا تو اس آرڈیننس کی مدت میں توسیع کی اور ناہی اس کے تحت پارلیمان سے کوئی قانون منظور کروایا گیا ہے۔

اس موقع پر عباسی کے بقول، پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے بھی عدالت کو بتایا کہ اس آرڈیننس کی معیاد ختم ہو گئی ہے۔

اس پر عدالت نے حافظ سیعد کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی معیاد ختم ہونے کی وجہ اس کے خلاف دائر کی گئی درخواست موثر نہیں رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت صدر کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس چار ماہ کے بعد مؤثر نہیں رہتا اگر قومی اسمبلی اس کی مدت میں مزید توسیع نہیں کرتی۔

حافظ سعید کی جماعت الدعوہ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کا شمار ان تنظیوں میں ہوتا ہے جن پر اقوامِ متحدہ اور امریکہ تعزیرات عائد کر چکے ہیں اور حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صدارتی آرڈیننس کی معیاد ختم ہونے کے انکشاف کے بعد بین الاقوامی برادری کی طرف سے پاکستان پر اقوام متحدہ کے تحت قرار دی گئی تمام تنظیموں کے خلاف موثر اور مستقبل اقدامات کرنے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سلامتی کے امور کی تجزیہ کار طلعت مسعود نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے تجویز کردہ اقدامات کے تحت یہ ضروری تھا کہ اس قسم کی تنظیموں کی خلاف موثر کارروائی کی جاتی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ان تنظیموں پر باپندی برقرار نا رکھنے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شاید حکومت اور عسکری قیادت یہ بہتر خیال کرتی ہو کہ ان تنظیموں کو سیاسی دھارے میں لا کر ان کی سرگرمیوں کو کنڑول کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کی بلاتفریق نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، امریکہ سمیت بعض دیگر ممالک پاکستان کی حکومت کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG