رسائی کے لنکس

مولانا غفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران افغانستان کا نام لئے بغیر اس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ’’پاکستان افغانستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح سلوک کرتا ہے۔ لیکن، وہ بھارت کا آلہ کار بن کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے‘‘

سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین اور جے یو آئی(ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام کے رہنماﺅں پر خودکش حملوں میں ’’وہ قوتیں ملوث ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں پارٹی کو رُکاوٹ سمجھتی ہیں‘‘۔

خودکش حملے میں زخمی ہونے کے بعد صحت یاب ہونے پر کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا حیدری کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وہ اس حملے کے لئے منصوبہ بندی کرنے والی قوتوں کی مدد کرنے کا الزام افغانستان نہ ہی ایران پر لگانا چاہیں گے۔

تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’بھارت روز اول سے ہی پاکستان کے خلاف سازش اور اس ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’بھارت، جس نے پاکستان کی آزادی کو آج تک تسلیم نہیں کیا اُس کی مسلسل ریشہ دوانیوں سے پاکستان عدم استحکام کا شکار رہا۔ لیکن، بھارت کو میں باور کرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اب ایک ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے لیس فوج ہے۔ پاکستان اب کوئی تر نوالہ نہیں کہ کوئی اُسے ہضم کرے۔ انڈین ایجنٹ پکڑے گئے۔ انہوں نے کہاں پناہ لی تھی کہاں سے وہ پیسے بھیجتا تھا اور یہاں کاروائیاں ہوتی تھیں۔‘‘

جمیعت علمائے اسلام (ف) دیوبند مکتبہٴ فکر کے علما کرام کی جماعت ہے۔ اس پارٹی کے رہنما اکثر و بیشتر پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے خودکش حملوں اور مسلح جدوجہد کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی پر بھی بلوچستان میں خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ تاہم، یہ دونوں رہنما ان حملوں محفوظ رہے ہیں۔

مولانا غفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران افغانستان کا نام لئے بغیر اس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح سلوک کرتا ہے۔ لیکن، وہ بھارت کا آلہ کار بن کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

بھارت اور افغانستان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

سینٹ کے ڈپٹی چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری پر گزشتہ ہفتے کے دوران ضلع مستونگ میں ایک خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں 28 افراد ہلاک اور مو لانا حیدری سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ دای داعش کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG