رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے خلاف کارروائی کا ٹرمپ نے ابھی فیصلہ نہیں کیا: ہیلی


سلامتی کونسل

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر، نکی ہیلی نے جمعے کے روز کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب سے متعلق ’آپشنز‘ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ یہ حملہ صدر بشار الاسد نے کرایا۔

ہیلی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کو بتایا کہ ’’ہمارے صدر نے شام میں ممکنہ کارروائی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا‘‘۔

لیکن، اُنھوں نے کہا کہ ’’اگر امریکہ اور اُس کے اتحادی شام میں کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وہ اُس اصول کے دفاع میں ہوگا جس پر ہم سب متفق ہوں گے۔ یہ بین الاقوامی اصولوں کے دفاع میں ہوگا جس سے تمام ملکوں کو فائدہ پہنچے‘‘۔

کونسل کے اجلاس سے قبل، ہیلی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ جمعے کے روز واشنگٹن لوٹیں گی، تاکہ ممکنہ جوابی کارروائی کے سلسلے میں مزید ملاقاتوں میں شریک ہوں۔

اُنھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’کوئی شک نہیں کہ مجھے صدر ٹرمپ پر فخر ہے کہ اُنھوں نے اطلاعات کو دیکھا، جائزہ لیا اور اس معاملے میں عجلت سے کام نہیں لیا، چونکہ شروع ہی سے وہ کہہتے آرہے ہیں کہ ہمیں پتا ہونا چاہیئے کہ جو کارروائی ہم کریں وہ درست ہو، کہ ہم تمام ضروری احتیاطی تدابیر لیں کہ کیا قدم اٹھایا جائے‘‘۔

دمشق کے مضافات میں مشرقی غوطہ کے دوما شہر میں یہ حملہ ایک ہفتہ قبل ہوا جس میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ سینکڑوں بیمار ہوگئے۔

ہیلی نے کہا کہ ’’ایک مرحلے پر آپ کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ایک حد آتی ہے کہ آپ کہتے ہیں: بس، بہت ہو چکا‘‘۔

شام نے تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ لیکن، ہیلی نے شامی صدر پر تنقید کی کہ وہ شہریوں کے خلاف کلورین اور سارین گیس استعمال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ ’’ہمیں صاف کہہ دینا چاہیئے: اسد کی جانب سے دوما کے لوگوں کے خلاف زہریلی گیس کا یہ حالیہ استعمال پہلا، دوسرا یا تیسرا واقعہ نہیں؛ بلکہ 49واں کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ تھا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق ’’امریکہ کا اندازہ یہ ہے کہ اسد نے شام کی لڑائی کے دوران کم از کم 50 بار کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ عام اندازوں کے مطابق، 200 مرتبہ ایسا کیا گیا‘‘۔

روس

اُنھوں نے روس کی مذمت کی کہ سکیورٹی کونسل میں ویٹو کا استعمال کرکے وہ شام کو احتساب سے بچا رہا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانےسے اُسے کوئی سر و کار نہیں کہ سنہ 2013کے معاہدے کی رو سے وہ اپنے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا۔

ہیلی کے بقول، ’’روس غلط خبروں کے دعوے اور شکایت کرتا رہے، لیکن کوئی بھی اُس کے جھوٹ اور حقائق سے روگردانی کی کوششوں سے مرعوب نہیں ہوتا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG