رسائی کے لنکس

شام میں فضائی کارروائی، ’’حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا‘‘: ٹرمپ


روسی انتباہ کے باوجود کہ شام کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ فوجی تنازع بھڑک سکتا ہے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا، تاکہ مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا جواب دیا جا سکے، جس کا الزام شام کے صدر بشار الاسد کی افواج پر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو ایک بیان میں وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارا ہکابی سینڈر نے کہا ہے کہ ’’صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملاقات کی ہے۔ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم انٹیلی جنس کی رپورٹوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنے ساجھے داروں اور اتحادیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ شام کو صدر ٹرمپ فرانس کے صدر اور برطانیہ کی وزیر اعظم سے بات کریں گے‘‘۔

سلامتی کے اعلیٰ اہلکاروں اور فوجی مشیروں سے ملاقات سے قبل، صدر ٹرمپ نے کہا کہ فیصلہ ’’بہت جلد‘‘ کیا جائے گا۔

بعدازاں، وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران، جس میں ٹرمپ کی دفاعی بجٹ میں اضافے کی تجویز زیر غور آئی، صدر نے اعلان کیا کہ ہم مضبوط ترین فوج تیار کر رہے ہیں۔ کیا اس کے لیے یہ بہترین وقت نہیں ہے؟ درست؟ یہی وقت ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے‘‘۔

ایسے میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ امریکی قیادت میں متعدد اتحادی شام کے کئی ایک اہداف کو فضائی کارروائی کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ ’’شام پر میزائل گرنے والے ہیں‘‘۔ ٹوئٹر پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ شام پر حملہ کس وقت ہوگا‘‘۔

روس نے شام میں ملوث تمام فریق سے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے احتراز کیا جائے جن کے نتیجے میں خطہ عدم استحکام کا شکار ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG