رسائی کے لنکس

سرکاری اہل کار کا ''نامناسب رویہ''، سکھ برادری کا احتجاج


فائل

صوبہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع ہنگو میں سکھ برادری میں پائی جانے والی تشویش اس وقت ختم ہوگئی جب ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ہونے والے جرگے میں سرکاری عہدیدار نے سکھ برادری کی دل آزاری پر معذرت کی۔

دو روز قبل ہنگو کے علاقے تھل میں اسسٹنٹ کمشنر ایوب خان نے علاقے کے ایک دوکاندار، سردار سوہندر سنگھ کو مبینہ طور پر اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کا کہا جس پر سکھ برادری نے سخت احتجاج کیا تھا۔

اس واقعے پر بات کرتے ہوئے، اسلامی نظریاتی کونسل کے نئے چیرمین، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ احسن طریقے سے یہ مسئلہ حل ہوگیا۔ بہرحال انہوں نے کہا کہ ''اس افسر کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تبلیغ کا بھی اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ مخصوص لوگ ہوتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ ایسی باتیں ایک عہدہ دار کو زیب نہیں دیتیں۔ کوئی بندہ، کوئی سوالی کوئی شکایت لے کر آپ کے پاس آتا ہے اور آپ اس کو مذہب چھوڑنے کی تلقین کریں، یہ کو ئی اچھی بات نہیں۔''

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ 1973 کے آئین میں اقلیتوں کے بڑے حقوق ہیں اور اس قسم کی کنورژن (تبدیلی مذہب) کی گنجائش نہیں ہے کہ آپ کسی کو اس کا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر سکیں۔ بقول انکے ''اس بارے میں پاکستان کا آئین بڑا واضح ہے''۔

ڈاکٹر ایاز نے چیرمین کی حیثیت سے مستقبل کی سفارشات پر بات کرتے ہوئے کہا ''میری تجویز یہ ہے کہ اس وقت عالمگیریت کے بعد کی دنیا میں ہم جس صورتحال سے گزر رہے ہیں، اس میں سرکاری ملازمین کو آئین کے بارے میں آگہی دینی چاہئے۔''

ڈاکٹر ایاز کا انٹرویو سننے کے لئے نیچے دئیے ہوئے لنک پر کلک کریں:

please wait

No media source currently available

0:00 0:03:19 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG