رسائی کے لنکس

اقلیتی برادری کی کم سن بچی کی شادی، کورٹ میرج یا زبردستی؟


پولیس کارروائی (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والے ایک مسیحی خاندان نے الزام لگایا ہے کہ ان کی کم سن بیٹی کو ایک شخص نے اغوا کرکے ان کے ساتھ زبردستی شادی کر لی ہے، جبکہ مدعی کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق، نویں جماعت کی طالبہ پرنسی نے ذوالقرنین کے ساتھ عدالت میں مرضی سے شادی کی ہے۔

ضلع ہری پور کی تحصیل غازی کے گاؤں مبین بانڈہ سے تعلق رکھنے والی خاتون نورین میسح نے شوہر فرانسز کے ہمراہ صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ان کی بیٹی پرنسی 3 اگست کو غائب ہوگئی تھی، جبکہ 9 اگست کو انہیں ایک مقامی شخص کے ذریعے اطلاع ملی کہ پرنسی نے ذوالقرنین کے ساتھ صوابی کی ایک عدالت میں کورٹ میرج کی ہے۔

یہ اطلاع ملنے پر نورین اور انکے شوہر فرانسز نے ذوالقرنین کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کرنے کیلئے پولیس سے رابطہ کیا۔ تاہم، نورین کے بقول، پولیس نے پہلے تو مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا اور بعد میں جب مقدمہ تو درج کر لیا، لیکن ملزم ذوالقرنین کی گرفتاری اور ان کیخلاف مزید کارروائی کرنے میں مخلص دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

نورین نے کہا کہ انکی بیٹی نابالغ ہے اور اسکی عمر ساڑھے چودہ سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی اختر شاہ کے بیٹے نے رات کے وقت انکی بیٹی کو اغوا کیا اور اس نے اسی وقت اختر شاہ سے رابطہ کرکے بیٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ انکے بقول، اختر شاہ نے واپسی کا یقین دلایا مگر بعد میں مکر گیا۔

نورین اور اس کے شوہر نے الزام لگایا کہ مبینہ ملزم ذوالقرین کی سرپرستی ملک اور صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک مقامی عہدیدار کر رہے ہیں۔

مسیحی خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

نورین اور انکے شوہر نے کہا کہ اب ان پر مقدمہ واپس لینے اور صلح کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ بقول ان کے، انھیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ لہذا، انہوں نے حکومت سے اس واقع کا سختی سے نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کا موقف

متاثرہ خاندان کے افراد کے الزامات کے جواب میں ہری پور پولیس کے حکام نے بتایا کہ مسیحی خاندان کی لڑکی نے صوابی کی ایک عدالت میں ذوالقرنین کے ساتھ شادی کی ہے اور اس سلسلے میں جوڑے نے اسٹامپ پیپر معاہدے کے علاوہ نکاح نامہ بھی پیش کیا ہے۔

تاہم، پولیس حکام کے مطابق، متاثرہ خاندان کے درج شدہ مقدمے پر کارروائی شروع کی جارہی ہے۔

پس منظر

پرنسی کا واقعہ ملک میں ايسا پہلا کیس نہیں جس میں کسی مذہبی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے والدین اپنی بیٹی کے مبينہ اغوا اور شادی کے معاملے پر انصاف کے متمنی ہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے مذہبی اقلیتوں، بالخصوص ہندو اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کی جبری مذہب کی تبدیلی، اغوا اور پھر مقامی مسلمان گھرانوں کے لڑکوں سے شادیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ان واقعات پر کافی ناراض اور مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد خان نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ غیر مسلم اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حقوق کے تحفظ آئین پاکستان کے مطابق تمام شہریوں کا فرض ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی تاکید کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG