رسائی کے لنکس

logo-print

ہزارہ کان کنوں کے قتل کے خلاف دھرنے کا پانچواں روز، پی ڈی ایم رہنماؤں کی شرکت


کوئٹہ میں ہزارہ کمیونیٹی کا دھرنا۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں مچھ واقعہ میں قتل ہونے والے افراد کے لواحقین کا میتوں کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری رہا۔ دھرنے میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریتک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مرکزی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مچھ واقعہ میں مارے گئے کان کنوں کے لواحقین ایک جانب سانحے کے باعث کرب میں مبتلا ہیں، تو دوسری جانب کھلے آسمان تلے سرد موسم کی شدت ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

دھرنے میں موجود ایک خاتون صوبیہ ہزارہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سردی کے باعث دھرنے میں شریک بعض بچے بیمار ہو چکے ہیں۔

دھرنے کے شرکا وزیرِ اعظم عمران خان کے کوئٹہ آ کر لواحقین کی داد رسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کسی بھی وقت کوئٹہ کے لیے روانہ ہو سکتے ہیں۔

پی ڈی ایم رہنماؤں کی دھرنے میں شرکت

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتوں کے رہنما جمعرات کو کوئٹہ پہنچے اور دھرنے کے شرکا سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحب زادی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سابق وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر رہنما دھرنے میں شریک ہوئے۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب میں مریم نواز نے واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ بقول ان کے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں لاش کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں سب کچھ مہنگا ہے۔ مگر عوام اور مزدور کا خون سستا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نےحکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کو دہشت گردی سے متاثرہ ان مظلوموں کے مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں۔ جو میتوں کے ساتھ پانچ روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔

انجمنِ تاجران بلوچستان کی کال پر ہڑتال

سانحہ مچھ کے خلاف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو مرکزی انجمنِ تاجران بلوچستان کی کال پر مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی۔

تاجروں نے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لیے تمام کاروباری مراکز بند رکھے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں مچھ کے علاقے میں ہزارہ براردی کے 11 کان کنوں کو قتل کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

شرکا کا دھرنا ختم کرنے سے انکار

بدھ کے روز وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی درخواست کے باوجود شرکا نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس سے قبل صوبائی اور وفاقی وزرا کے دھرنے کے عمائدین سے ہونے والے مذاکرات بھی ناکام ہو چکے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے جمعرات کو ایک بار پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیان میں سانحہ مچھ میں ہلاک ہونے والے کان کنوں کے لواحقین سے میتوں کی تدفین کی درخواست کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لواحقین سے التجا ہے کہ وہ میتوں کی تدفین کے مذہبی فریضے کو نہ روکیں۔

ڈی سی اور ڈی پی او معطل

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ہدایت پر مچھ واقعہ کے پانچویں روز ڈی سی کچھی اور ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر غفلت برتنے پر ڈپٹی کمشنر کچھی کو فوری طور پر اپنے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا۔

افغان حکومت کا پاکستان کو خط

ادھر افغان حکومت نے پاکستان کی حکومت کو ایک خط کے ذریعے کہا ہے کہ مرنے والوں میں سے تین افراد کی میتیں، جن کا تعلق افغانستان سے ہے، افغان حکام کے حوالے کی جائیں۔

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‏افغان حکومت نے سات میتوں کی شناخت افغان شہریوں کے طور کرتے ہوئے تین میتوں کو ان کے لواحقین کی درخواست پر فوری طور افغان حکومت کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG