رسائی کے لنکس

چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم؛ ’اس میں شرم کی کوئی بات نہیں‘


’فارس العرب‘ نامی نجی خیراتی ادارے نے غزہ میں کام کرنے والی وزارتِ صحت کے ساتھ مل کر ’اس میں شرم کی کوئی بات نہیں‘ کے عنوان سے اس مہم کا آغاز کیا ہے۔

غزہ میں صحت کے حکام اور خیراتی اداروں نے خواتین کو چھاتی کے کینسر کا ٹیسٹ کرانے کی ترغیب دینے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا ہے جس میں اس مرض سے متعلق سماجی تصورات کو بدلنے کا پیغام بھی دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’فارس العرب‘ نامی نجی خیراتی ادارے نے غزہ میں کام کرنے والی وزارتِ صحت کے ساتھ مل کر ’اس میں شرم کی کوئی بات نہیں‘ کے عنوان سے اس مہم کا آغاز کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت خواتین میں چھاتی کے سرطان کی جلد تشخیص اور اس مرض سے متعلق آگاہی فراہمی کے لیے مسلمان مبلغین کی مدد لی گئی ہے۔

یہ مبلغین چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پر مبنی پیغامات کو روٹی کے پیکجز میں بند کر کے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

روایت پسند فلسطینیوں میں چھاتی کے کینسر کو ایک ’سوشل اسٹگما‘ یا سماجی کلنک تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی اس حوالے سے عام طور پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں عام گفتگو اور اظہار کو بھی پسند نہیں کیا جاتا۔

غزہ میں جاری اس مہم میں موبائل ٹیسٹنگ وین سڑکوں پر لائی گئیں ہیں۔ ان ٹیسٹنگ وینز میں گزشتہ ایک ہفتے میں 150 خواتین کی اسکینگ کی جا چکی ہے۔

ہر سال اکتوبر کے مہنیے میں عالمی سطح پر چھاتی کے کینسرے سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

’اس میں شرم کی کوئی بات نہیں‘

غزہ میں اس آگاہی مہم کی سربراہی کرنے والی جورجیت حرب کا کہنا ہے کہ ’اس میں شرم کی کوئی بات نہیں‘ کا خاتون کے تحفظ کے لیے امید کا پیغام ہے۔ اس کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنا معائنہ کرائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ چھاتی کے سرطان کو شرم و حیا سے جوڑتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مرض کی صورت میں چھاتی کٹوانے یا چھاتی کے لفظ ہی کو عریانی سمجھتا ہے۔

حکام کے مطابق غزہ میں کینسر میں مبتلا ہونے والی خواتین میں سے 32 فی صد کو چھاتی کا کینسر ہوتا ہے۔

یہاں کینسر کے مریضوں کو غربت، ادویہ اور علاج معالجے کے لیے اسپتالوں کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔

اس کے علاوہ علاج کے لیے اسرائیل یا مغربی کنارے جانے کے لیے درکار اجازت ناموں کے حصول میں حائل پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

غزہ مصر اور اسرائیل کے درمیان ایک ساحلی پٹی ہے جس میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں۔ یہاں غربت اور بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG