رسائی کے لنکس

logo-print

آرٹیکل 370: عدالت کا بھارتی حکومت کو ایک ماہ میں جواب داخل کرانے کا حکم


سپریم کورٹ آف انڈیا (فائل فوٹو)

بھارت کی سپریم کورٹ میں جمّوں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر منگل کو سماعت ہوئی ہے۔ عدالت نے بھارتی حکومت اور کشمیر کی انتظامیہ کو تمام آئینی درخواستوں کا جواب جمع کرانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارتی سپریم کورٹ میں اس اقدام کی مخالفت میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

جمّوں و کشمیر سے متعلق تمام درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی جسٹس این وی رامانا کر رہے ہیں۔

منگل کو سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے دو ہفتوں سے زیادہ مہلت نہ دی جائے۔ لیکن عدالت نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے انتظامیہ کو 28 روز کا وقت دیا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمیں حکومت اور جمّوں و کشمیر کی انتظامیہ کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دینا ہوگا، بصورت دیگر ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکیں گے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال اور جمّوں و کشمیر کے سولیسیٹر جنرل کو چار ہفتوں میں تمام پٹیشنوں کا جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کے جواب جمع کرانے کے بعد درخواست گزاروں کے پاس بھی جواب الجواب کے لیے ایک ہفتے کا وقت ہو گا۔

واضح رہے کہ رواں سال 5 اگست کو بھارت کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آئین کی شقوں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا تھا۔

اس اقدام کے بعد سے کشمیر میں جہاں ایک طرف مسلسل کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں، وہیں بھارت کی سپریم کورٹ میں اس اقدام کے خلاف متعدد درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے متعلق اب مزید کوئی درخواست نہیں سنی جائے گی۔

دوسری جانب بھارت کی حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کیا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے’ ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق دورے سے واپسی کے بعد پیر کو بیان دیتے ہوئے غلام نبی نے کہا کہ کشمیر میں خوف کی فضا قائم ہے اور حکومت کے اقدامات سے کشمیری سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

غلام نبی آزاد نے بھارتی حکومت کے اقدامات کو تباہی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر میں ہر طبقہ متاثر ہوا ہے اور کاروبار بند ہو کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دورے کے دوران مقامی لوگ ان سے نہ مل سکیں۔

غلام نبی نے کہا کہ انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور کئی جگہوں پر جانے سے روکا گیا۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کانگریس رہنما نے کشمیر کا دورہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انتظامیہ کی جانب سے انہیں روک دیا گیا تھا۔

جس کے بعد غلام نبی آزاد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے کشمیر جانے کی اجازت دینے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے گزشتہ ماہ انہیں وادی کے چار اضلاع کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG