رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر پر بات کرنے سے انکار، مہوش حیات کو تنقید کا سامنا


مہوش حیات۔ (فائل فوٹو)

کشمیر سے متعلق بات کرنے سے انکار پر پاکستانی اداکارہ مہوش حیات کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین مہوش حیات پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان سے تمغہ امتیاز واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چند روز قبل کراچی میں ایک تقریب کے دوران ایک صحافی نے مہوش حیات سے کشمیر میں بچوں کو درپیش مشکلات سے متعلق سوال پوچھا جس پر مہوش حیات نے جواب دیا کہ انہیں کشمیر پر بات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

مہوش حیات کے اس اقدام پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنے اپنے انداز میں انہیں کھری کھری سنائیں۔ ٹوئٹر پر 'مہوش حیات سے سول ایوارڈز واپس لو' ٹرینڈ کرنے لگا۔

ایک ٹوئٹر صارف نے مہوش کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر کشمیرکی حمایت میں بول نہیں سکتیں تو تمغہ امتیاز واپس کر دیں۔

جہاں مہوش حیات پرتنقید کی برسات ہوئی وہیں بہت سے لوگ ان کی حمایت میں میدان میں آ گئے۔ صحافی مہر تاررڑ نے ٹوئٹ میں کہا کہ مہوش حیات کو تنہا چھوڑ دو۔ ویڈیو کے ٹکڑے لے کر اپنی مرضی کے معنی دینا غلط ہے۔

اینکر اقرار الحسن نے ٹوئٹ میں مہوش کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فلموں میں کام کرنا ہر پاکستانی آرٹسٹ کا خواب ہوتا ہے۔ مہوش حیات نے بھارتی پالیسیوں پرتنقید کرکے ثابت کردیا کہ وہ اپنے کیرئیر سے زیادہ اپنے ملک سے محبت کرتی ہیں۔

شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ ہم مہوش حیات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جس طرح مہوش کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی رہی ہیں اس پر مجھے فخر ہے۔

مہوش حیات نے بھی اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا ٹوئٹر پر وضاحت کے ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیک ویڈیو کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ یہ ایک چیرٹی تقریب تھی جس کی منتظم نے مجھ سے سیاست پربات نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے تقریب تھی اور ہماری کوشش تھی کہ ساری توجہ اسی تقریب پر رہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ کشمیرپر آواز اٹھائی ہے اور ایسا کرتی رہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG