رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ہر گزرتے سال کے ساتھ گرمی کی شدت میں اضافہ


کیلی فورنیا

گزشتہ کچھ برسوں سے امریکہ کے بڑے شہروں میں موسمِ گرما کی شدت بڑھ گئی ہے، جس کے بارے میں سائنس دانوں نے دس سال پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔

ایک جائزے کے مطابق، 1960ء کے عشرے میں اوسطً گرمی کی لہر دو مرتبہ آتی تھی، جو سن 2010ء میں بڑھ کر چھ مرتبہ ہو گئی؛ جب کہ موسمِ گرما کا دورانیہ بھی 47 دن زیادہ ہو گیا۔

اس ہفتے امریکی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس کی وجہ ہوا کے اس غلاف کو قرار دیا جا رہا ہے، جسے قومی موسمیاتی ادارے کے میٹیورولوجسٹ گریگ کاربن 'ہیٹ ڈوم' کا نام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گرم ہوا زمین پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے جس کی وجہ سے فضائی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور شدید گرمی کی لہر نے ڈیرے ڈال لئے ہیں۔

امریکہ میں گرمی کی حالیہ لہر کیا موسمیاتی تبدیلی کا مظہر ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:10:30 0:00

اگرچہ موسمِ گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ ایک قدرتی امر ہے۔ گرما ہے تو گرمی تو ہوگی، مگر اس کی وجہ سے انسانی صحت پر برے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

یکن، ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی وقتی تبدیلی عارضی ہوتی ہے اس لئے ماحول پر اس کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر سلیم علی ڈیلاوئیر یونیورسٹی میں ماحولیات کے پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی مقام پر کچھ ہفتوں کیلئے موسم میں تبدیلی دیکھتے ہیں تو اس کا تعلق ماحولیات سے نہیں جوڑ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات معلوم کرنے کیلئے آپ کو کسی ایک مقام کے درجہ حرارت اور دیگر موسمی تغیرات کا طویل عرصے تک مشاہدہ کر کے اس کے اوسط ماحولیاتی اثرات کا اندازہ لگانا ہو گا۔

ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ ہر سال درجہ حرارت میں تبدیلی نظر آتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر یقین نہ کرنے والے اس سال مئی کے مہینے میں امریکہ کے شمال مشرق میں درجہ حرارت معمول سے کم رہنے کو مثال بنا کر کہتے رہے کہ گلوبل وارمنگ کچھ نہیں ہے، کیونکہ مئی میں کچھ امریکی شہروں میں برف باری بھی ہوئی۔

ناسا کے گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ فار سپیس سٹڈیز کے اعدادوشمار کے مطابق، اس سال جنوری سے جون تک درجہ حرارت 140 سال میں دوسری مرتبہ اتنا زیادہ رہا۔ اس سے پہلے سن 2016ء کا پہلا نصف اس سے گرم رہا تھا۔

س لئے ڈاکٹر سلیم علی کہتے ہیں کہ سائنسدان سو سال سے زیادہ کے اعدادوشمار کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کرہ ارض کے کن حصوں میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اگر درجہ حرارت سائبیریا میں بڑھ رہا ہے تو اس کا براہ راست اثر ماحولیات پر پڑے گا جب درخت جل جائیں گے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار فضا میں بڑھ جائے گی تو صورت حال خطرناک ہو سکتی ہے۔

سائبیریا میں درجہ حرارت میں شدید اضافے نے جولائی کے مہینے میں وسیع علاقے میں آگ بھڑکا دی ہے۔ اس وقت وہاں 150 مقامات پر آگ لگی ہے اور ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، اس وقت کرہ ارض پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح آٹھ لاکھ سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اور یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی ہے جو گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ گرمی جذب کرتی ہے۔ اور انسانی زندگی کی مصروفیات یہی گیس سب سے زیادہ فضا میں پیدا کرتی ہیں۔

ڈاکٹر سلیم علی نے مزید بتایا کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے سے قطبین پر آئس برگ اور برفانی تہیں پگھلنے لگ گئی ہیں اور اس کے نتیجے میں سمندر وں کی سطح بلند ہو کر ساحلی مقامات کو خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔ اور ان مقامات میں پاکستان کا ساحلی شہر اور کاروباری اور تجارتی مرکز کراچی بھی شامل ہے۔

کراچی میں کچھ عشرے پہلے موسمی درجہ حرارت کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی مگر اب وہاں موسم شدید گرم رہنے لگا ہے۔ ​

کراچی میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ڈاکٹر مرزا علی اظہر کہتے ہیں کہ کراچی کی بات کیجئے تو یہاں ماحولیات میں تبدیلی کی تین وجوہات ہیں۔ ایک تو کراچی شہر کی آبادی میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے رہائش کے مسائل پیدا ہوئے تو درخت کاٹ کر بلند عمارتیں تعمیر کرنے کا رجحان بڑھا اور پہلے جو شہر میں سر سبز درختوں کی قطاریں نظر آتی تھیں اب ختم ہو گئیں اور بڑے بڑے مال اور کنکریٹ کی عمارتوں کی بہتات نے۔ نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ آیا بلکہ بارشیں بھی تقریباً رک سی گئی ہیں اور اب شہر میں معتدل موسم کی جگہ شدید گرمی نے لے لی ہے۔

ماحولیات کے سائنسدانوں کے نزدیک کرہ ارض کو سب سے زیادہ خطرہ ان گرین ہاؤس گیسوں سے ہے جو انسانی زندگی کی مصروفیات سے ماحول میں شامل ہوتی ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا پھیلی تو اندازہ ہونے لگا کہ ان گیسوں کی مقدار فضا میں کم ہو گئی ہے، کیونکہ انسان زیادہ تر گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم علی کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ کمی عارضی ہی سہی مگر اس سے یہ احساس تو پیدا ہوا کہ بلا وجہ سفر سے گریز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی سفر تقریباً نوے فیصد کم ہوا ہے تو انسانوں کو سوچنا ہو گا کہ اپنے ماحول کو بچانے کیلئے اور سانس لینے کی فضا کو صاف رکھنے کیلئے وہ بلا وجہ گاڑیاں سڑک پر لانے اور بزنس میٹنگ کے بہانے سفر پر جانے سے کتنا گریز کر سکتے ہیں۔

اکٹر مرزا علی اظہر نے کہا ہے کہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے لوگ گھروں سے کم نکل رہے ہیں تو گاڑیوں کا دھواں بھی کم ہوا ہے، وگرنا کراچی جیسے شہروں میں ٹریفک کی صورتِ حال اور آبادی کا دباؤ ماحول کو کبھی صاف رہنے نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اگر ذرا بھی اس جانب توجہ دیں تو یہ شہر پھر سے سرسبز ہو سکتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو لیاری ندی کے ساتھ ساتھ ہی دو رویہ درخت لگا دئیے جائیں تو کچھ عرصے میں شہر کی فضا بہتر ہو سکتی ہے۔

سیرا گرین مشی گن یونیورسٹی میں ماحولیات کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے امریکی ویب سائٹ میش ایبل کو بتایا کہ فی الوقت عالمی درجہ حرارت اوسطً ایک درجے سیلسئیس کے قریب ہے۔ انیس سو پچاس سے 1980ء وہ عرصہ ہے جسے سائنسدان بیسویں صدی کے درجہ حرارت کے تقابل کیلئے استعمال کرتے ہیں اور اس کے مطابق، اس سال جنوری سے جون تک کے عرصے میں درجہ حرارت ایک اعشاریہ بارہ درجے سیلسئیس رہا ہے۔ اور جون کا مہینہ گرم ترین تھا جو ایک ریکارڈ ہے۔

سن 2015ء میں عالمی سطح پر ایک معاہدے پر دستخط ہو ئے تھے کہ کرہ ارض کا درجہ حرارت دو درجے سیلسئس سے کم رکھا جائے گا۔ اگرچہ اسے ایک اعشاریہ پانچ تک رکھنے کی تگ و دو جاری ہے مگر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ درجے پر ٹھہرا رہا تو اس کے نتائج کرہ ارض کیلئے بہت خطرناک ہوں گے جہاں برف کی تہہ پگھلنے لگے گی، گرمی کا عرصہ شدید اور طویل ہو جائے گا اور سائبیریا کی طرح آگ لگی تو بجھ نہ پائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG