رسائی کے لنکس

پاکستان میں رواں سال زیادہ بارشوں کا امکان، سیلاب کا بھی خدشہ


(فائل فوٹو)

پاکستان میں محکمہ موسمیات نے رواں سال ملک بھر میں مون سون سیزن کے دوران زیادہ بارشوں کی پیش گوئی اور سیلاب کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں بھی زیادہ بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی آ سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائض، ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے بتایا کہ بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں کے برساتی نالوں میں بھی سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔

گرمی کی شدت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گرمی کا پیمانہ زیادہ یا کم بارشوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موسم میں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن حبس کی وجہ سے گرمی کی شدت درجہ حرارت سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ظہیر احمد بابر کے مطابق پاکستان میں دریائے سندھ اور دریائے کابل میں پانی کا انحصار پہاڑوں پر برف پگھلنے سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے موسم سرما میں ان دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بہت کم ہو جاتا ہے۔

اُن کے بقول موسم گرما میں برف تیزی سے پگھلتی ہے اور دریا پانی سے بھر جاتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ زیادہ بارشوں کی وجہ سے ان دریاؤں میں طغیانی آ سکتی ہے جسے قریبی علاقوں میں سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔

حکام نے لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔ البتہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں سال فصلوں اور توانائی کے شعبے کے لیے وافر پانی دستیاب ہو گا۔

محکمہ زراعت کے ایک افسر ڈاکٹر عارف گوہیر کے مطابق پاکستان میں مون سون کا سیزن عموماً یکم جولائی سے شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہتا ہے۔

اُن کے بقول رواں سال یہ سیزن وقت پر شروع ہوا ہے اور اس لحاظ سے ستمبر تک تواتر سے بارشیں جاری رہیں گی۔ شنید ہے کہ اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مون سون کی بارشیں ملک کی تین بڑی فصلوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گی۔

اُن کے بقول صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں میں چاول کی پنیری لگ چکی ہے۔ چونکہ چاول کی فصل کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے زیادہ بارشوں کا ہونا چاول کی فصل کے لیے اچھا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چاول کے علاوہ جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل کے لیے جولائی اور اگست میں ہونے والی بارشیں زیادہ اہم ہیں اور یہ فصل کی زیادہ پیداوار میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔

تاہم عارف گوہیر نے خبردار کیا کہ اگر بارشیں ستمبر سے آگے جاتی ہیں تو کپاس کی فصل کو مختلف سنڈیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔

لیکن اُن کے بقول یہ بارشیں جھنگ، سرگودھا، فیصل آباد اور دیگر اضلاع میں زیرِ کاشت کماد کی فصل کے لیے مفید بھی ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق رواں سال زیادہ بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ڈاکٹر عارف گوہیر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے موسم سرما میں بارشیں زیادہ ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے فصلیں خاص طور پر گندم کی فصل کی کٹائی اپنے مقررہ ٹائم پر نہیں ہو پاتی بلکہ فصل کی تیاری پر بے موسمی بارشوں سے گندم کی مجموعی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے۔

موسم سرما کی بارشوں کا اثر نہ صرف اناج بلکہ پھلوں اور سبزیوں پر بھی ہوا۔ عارف گوہیر کے مطابق فروری میں آم کی فصل کے لیے دھوپ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم تیز بارشوں، جھکڑ اور ژالہ باری کی وجہ سے آم کی نہ صرف پیداوار متاثر ہوئی دوسرا زیادہ گرمی نہ پڑھنے کی وجہ سے آم کے پھل میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بھی کم رہی جس کی وجہ سے اس بار پھل میں روایتی لذت نہیں ہے۔

پاکستان اور جنوبی ایشیا میں ٹڈی دل کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہویے عارف گوہیر نے بتایا کہ گزشہ دو سالوں میں موسم سرما اور بہار میں معمول سے زیادہ ہونے والی بارشیں بھی ٹڈی دل کے حملہ کی وجہ ہیں۔

اُن کے بقول نسبتاً گرم اور مرطوب موسم کی وجہ سے ٹڈی دل کو تمام علاقہ سر سبز اور شاداب ملا جس کی بدولت ان کی بڑے پیمانے پر افزائش ممکن ہوئی اور پاکستان میں زراعت کا شعبہ بُری طرح متاثر ہوا۔

XS
SM
MD
LG