رسائی کے لنکس

logo-print

غنی کو دو تہائی ووٹ دھاندلی کی بنیاد پر پڑے: حکمت یار کا الزام


افغانستان کے سابق جنگجو سردار،اور صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں افغان صدر اشرف غنی نے ’دھاندلی کے حربوں کا کھل کر استعمال کیا‘۔

بقول ان کے، ’’اشرف غنی کو پڑنے والے ووٹوں کی دو تہائی بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر ڈالے گئے‘‘۔

صدارتی انتخابات میں حکمت یار ایک سرکردہ امیدوار تھے، اور ان سات امیدواروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے انتخابی عمل پر اسی قسم کے الزامات لگائے ہیں۔

بدھ کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ عائشہ تنظیم کو دیے گئے انٹرویو میں، انھوں نے کہا کہ ’’انتخاب کے اس پہلے دور میں کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔ دونوں ٹیمیں (غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ) جیت کے غلط دعوے کر رہے ہیں۔ اگر صرف بائیو میٹرک کے تصدیق شدہ ووٹوں کو درست مانا جائے اور باقی مسترد کیے جائیں، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ غنی کی ٹیم تیسرے نمبر پر آئے گی‘‘۔

حکمت یار2017ء سے کابل کی ایک شاندار عمارت میں رہتے ہیں، جس سے قبل ان کا اپنے سیاسی حریف، اشرف غنی کے ساتھ امن کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

دھاندلی کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ ان کی سوچ اپنے اہم حریف عبداللہ عبداللہ سے ملتی ہے۔ ایسی صورت میں ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ پولنگ سے پہلے اور بعد میں مبینہ طور پر غنی نے دھاندلی کے حربے استعمال کیے۔
غنی کی ٹیم ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ انتخابات کے روز اپنے خطاب میں، خود اشرف غنی نے انتخابی اداروں پر زور دیا تھا کہ الیکشن سے متعلق شکایات کی تفصیلی چھان بین کی جائے۔

آزاد تجزیہ کاروں نے، جن میں کابل میں قائم ’افغانستان انالسٹس نیٹ ورک‘ شامل ہے، ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق اب تک ظاہر کیے گئے اعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جب کہ کچھ اعداد کو ’’غیر حقیقی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر صوبہ ننگرہار میں ہفتے کے روز 309 پولنگ مراکز پر مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 22813 بتایا گیا۔ ایک روز بعد، اچانک ووٹوں کا شمار 254871 بتایا گیا، جب کہ پولنگ مراکز کی تعداد بڑھ کر 390 ہوگئی۔

نیٹ ورک کے مطابق،ووٹوں کی گنتی دس گنا زیادہ کیسے ہوگئ؟ یہ بات نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جس میں اس طرح کی متعدد مثالیں دی گئی ہیں۔

اس نوعیت کی رائے زنی کے بعد افغانستان کے دو انتخابی اداروں پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے، جن کا کام ووٹوں کی گنتی اور شکایات کا ازالہ کرنا ہے، یعنی، بالترتیب، انتخابی کمیشن اور الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن۔
اٹھائیس ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کا اعلان رواں ماہ کے اواخر میں متوقع ہے، جب کہ حتمی نتائج آئندہ ماہ آئیں گے۔

اس وقت انتخابی کمیشن کو تکنیکی اور مواصلات کی نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں۔ ووٹروں کے فنگر پرنٹس اور تصاویر کا اندراج کرنے کے لیے 26000 بائیو میٹرک ڈیوائسز کا استعمال کیا گیا تاکہ اعداد و شمار کے بائیو میٹرک ڈیٹا کو سرورز تک منتقل کیا جا سکے۔ اس کام میں تاخیر بتائی جاتی ہے، جس سے نتائج برآمد ہونے میں دیر ہو سکتی ہے۔
جیتنے والے امیدوار کے لیے ڈالے گئےووٹوں کا 50 فی صد سے زیادہ ہونا لازم ہے۔ اگر کسی امیدوار کو اس سے کم ووٹ پڑتے ہیں تو پھر دو سرکردہ امیدواروں کے مابین ووٹنگ کا دوسرا دور منعقد ہوگا۔
تاہم، رجسٹرڈ 18 صدارتی امیدواروں میں سے عبداللہ عبداللہ اور غنی ہی مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں نے پہلے ہی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر غنی کے ساتھی، امراللہ صالح نے پولنگ کے بعد وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کو بتایا کہ انھیں 60 فی صد سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔
اُسی ہفتے، عبداللہ نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ انھیں انتخابی عمل میں ’’سب سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں، اس لیے انتخابات کے دوسرے دور کی ضرورت باقی نہیں رہی‘‘۔
حکمت یار اور افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ، رحمت اللہ نبیل نے بھی جیت کا عندیہ دیا، لیکن انھوں نے کامیابی کا اعلان نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG