رسائی کے لنکس

logo-print

عبداللہ عبداللہ کے بعد حکمت یار کا دورہ پاکستان کتنا اہم؟


افغانستان کے سابق وزیرا عظم اور حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں افغان امن عمل اور پاک افغان برادرانہ تعلقات کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت کئی دیگر اعلٰی عہدے دار بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ افغان رہنما حکمت یار پاکستان کے تین روزہ دورے پر پیر کو اسلام آباد پہنچنے تھے جہاں اُنہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تمام افغان فریقوں کو افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کے لیے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

افغان رہنما حکمت یار حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے افغان رہنما ہیں۔ افغانستان کی اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

افغان رہنما ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کابل اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان بین الافغان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ دوسری طرف افغانستان میں تشدد کے واقعات میں بھی حالیہ ہفتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان رہنماؤں کے دوروں کا مقصد بین الافغان مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان کی کوشش ہے کہ افغانستان کے تمام سیاسی دھڑوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جائے اور اس تاثر کو دور کیا جائے کہ پاکستان اٖفغانستان میں کسی ایک دھڑے کا حمایتی ہے۔

پاکستان کے سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے اسلام آباد کی کوشش ہے کہ افغانستان کے مختلف دھڑے اور افغان سیاسی رہنماؤں اور سابق فوجی کمانڈروں سے تعلقات بہتر کیے جائیں۔ ان کے بقول حزبِ اسلامی کے رہنما حکمت یار کا دورہ پاکستان اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

رستم شاہ کے بقول پاکستانی حکومت یہ چاہتی ہے کہ طالبان کے علاوہ دیگر افغان دھڑوں کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا جائے۔ ان کے بقول ماضی میں پاکستان نے افغان دھڑوں سے تعلقات میں صرف ایک دھڑے کے ساتھ تعلقات استوار کیے جس کا نقصان ہوا۔

تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہا کہ اگرچہ حکمت یار نے گزشتہ سال ستمبر میں افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن انہیں صرف تین فی صد ووٹ ملے تھے اور وہ ہار گئے تھے۔ رحیم اللہ کے بقول اس لیے ان کی سیاسی اہمیت بہت کم ہے اور ان کی فوجی اہمیت جو ان کے بقول پہلے بھی کم تھی اب مزید کم ہو گئی ہے۔

رحیم اللہ کے خیال میں پاکستان کی بظاہر یہ کوشش ہے کہ افغان امن عمل میں حکمت یار بھی اس میں فعال کردار ادا کریں۔

ان کے بقول دوحہ میں بین الافغان مذاکرات میں شامل 20 رکنی مذاکراتی ٹیم کابل سے دوحہ آئی تھی۔ اس میں حکمت یار کا صرف ایک نمائندہ شامل ہے۔ رحیم اللہ کہتے ہیں کہ اس لیے حکمت یار کی سیاسی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کم ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ حکمت یار اہم عسکری کمانڈر رہے اور انہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا اور ماضی میں کچھ عرصے کے لیے افغانستان کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں۔

رحیم اللہ کے بقول حکمت یار نے طالبان کی جانب دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا، لیکن طالبان نے انکار کر دیا تھا جس کے بعد سے وہ افغانستان میں زیادہ فعال نہیں رہے۔

دوسری طرف پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ خطے کا امن و استحکام افغانستان میں پائیدار امن سے مشروط ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کی افغان رہنما سے پیر کو ہونے والی ملاقات کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل تمام افغان دھڑوں کے کامیاب مذاکرات سے مشروط ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG