رسائی کے لنکس

logo-print

اُردو کے معروف شاعر حمایت علی شاعر انتقال کر گئے


حمایت علی شاعر کے دو انداز

اردو کے مشہور شاعر، ادیب اور نغمہ نگار حمایت علی شاعر دل کا دورہ پڑنے سے کینیڈا میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 93 برس تھی۔

حمایت علی شاعر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مقیم تھے اور کچھ عرصے سے بیمار تھے۔ ان کی تدفین کینیڈا میں ہی ہوگی۔

حمایت علی بھارت کے شہر اورنگ آباد میں 14 جولائی 1926 کو پیدا ہوئے اور 1951 میں پاکستان آنے کے بعد کراچی میں رہائش اختیار کی۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔

اردو شاعری میں حمایت علی شاعر کا ایک کارنامہ تین مصرعوں پر مشتمل ایک نئی صنفِ سخن 'ثلاثی' کی ایجاد ہے۔

حمایت علی شاعر ایک نامور مصنف، نغمہ نگار اور صدا کار تھے اور ریڈیو ڈراموں میں بھی اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے تھے۔ ان کے کئی گیت زبان زدِ عام ہوئے۔

ان کا پہلا مجموعۂ کلام پھول کے نام سے 1956 میں شائع ہوا تھا جسے 1958 میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں فلم آنچل اور دامن کے گانوں کے لیے بہترین نغمہ نگار کے دو نگار ایوارڈ بھی ملے۔

حمایت علی شاعر کی اس غزل کا شمار ان کی مشہور غزلوں میں ہوتا ہے۔

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش

جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس

پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ

اپنے سائے سائے سرنیہوڑائے آہستہ خرام

جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نِیاز

اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ

شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ

ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

ان کی ایک اور نمائندہ غزل ‘اس کے غم کو’ کچھ یوں ہے۔

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا

زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا

تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر

اپنے نقش کف پا کو مری منزل نہ بنا

اور بڑھ جائے گی ویرانئ دل جان جہاں

میری خلوت گہ خاموش کو محفل نہ بنا

دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں

عشق کو عشق سمجھ مشغلۂ‌ دل نہ بنا

پھر مری آس بندھا کر مجھے مایوس نہ کر

حاصل غم کو خدارا غم حاصل نہ بنا

شکست آرزو، حرف حرف روشنی، عقیدت کا سفر، آئینہ در آئینہ، تجھ کو معلوم نہیں، کھلتے کنول سے لوگ، محبتوں کے سفیر، مٹی کا قرض، تشنگی کا سفر اور ہارون کی آواز ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ انہوں نے 2007 میں اپنی تمام شاعری کو یکجا کر کے کُلیات شاعر کے نام سے شائع کیا تھا۔

حمایت علی شاعر کو ان کی ادبی خدمات کے عوض 2002 میں تمغۂ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG