رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: چمن میں ہندو تاجر کے قتل کے بعد احتجاج


واقعہ کے بعد ہندو برادری کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور قتل کے دوسرے روز اپنی تمام دُکانیں احتجاجاً بند کر دی ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اقلیتی برادری کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے باعث صوبے میں آباد اقلیتی برادری کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، پیر کی رات کو تشدد کے ایک تازہ واقعہ میں 35 سالہ ہندو تاجر کو نا معلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق ہندو تاجر روی کمار رات کو چمن بازار سے اپنے گھر پیدل جا رہے تھے اور جوں ہی تاج روڈ کے قریب اپنے گھر کی طرف جانے والی گلی میں داخل ہوئے تو پہلے سے گھات لگائے ہوئے مسلح افراد نے پستول سے فائرنگ کی کے جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

واقعہ کے بعد ہندو برادری کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور قتل کے دوسرے روز اپنی تمام دُکانیں احتجاجاً بند کر دی ہیں۔

میونسپل کمیٹی چمن بازار کے کونسلر اشوک کمار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو سال کے عر صے میں قتل کا یہ تیسرا واقعہ ہے ’’نہ جانے ہماری برادری کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے‘‘ انہوں نے حکومت سے اپنی برادری کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر چمن ساجد مومند نے وی او اے کو بتایا کہ ہندو تاجر کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور علاقے کے ایک چوکیدار اور دُکاندار کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ضلع پولیس افسر کے بقول ہندو برادری کے لوگوں کو پولیس کی طرف سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن برادری کے راہنماﺅں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ تحفظ کے بعد وہ سماج دشمن عناصر کی نظر میں آ جائیں گے۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں گزشتہ سال ستمبر میں ایک ہندو تاجر سنتوش کمار کو پہلے اغوا کیا گیا، برادری کے نمائندوں کے مطابق اغوا کاروں کو بھاری رقم ادا کر نے کے بعد جب اُن کو رہا کیا گیا تو اس کے چند ماہ بعد مسلح افراد سنتوش کمار کی دکان میں داخل ہوئے اور اُن کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

اس سے پہلے 2014 میں بھی ایک ہندو تاجر جندی لعل کو گھر کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک دیا گیا تھا۔

ہندو برادری کے لوگ بلوچستان کے تقریباً تمام اضلاع میں آباد ہیں سرحدی شہر چمن میں اس برادری کے لوگ قیام پاکستان سے پہلے کے آباد ہیں اور اُن کی آبادی لگ بھگ تین سو نفوس پر مشتمل بتائی گئی ہے، اس شہر میں برادری کی تین عبادتگاہیں بھی ہیں، چند سال پہلے اسی شہر میں سکھ برادری کے کچھ لوگ بھی رہتے تھے لیکن بدامنی کے واقعات کے باعث سکھ برادری یہ شہر چھوڑ کر ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہو گئی ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس سے پہلے بھی ہندو برادری کے لوگوں کے ساتھ اغوا برائے تاوان اور قتل کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس سے تنگ آ کر برادری کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں منتقل ہو چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG