رسائی کے لنکس

برطانیہ میں یورپی اتحاد کی رکنیت پر تاریخی ریفرنڈم


ریفرنڈم کے نتائج کے حوالے سے ایک عام تاثر یہ ابھرتا ہے کہ برطانوی عوام کے لیے جمعرات کی رات طویل بھی ہو سکتی ہے جب ملک کے طول وعرض میں ووٹرز اپنی سانسیں روکے فیصلے کے منتظر ہوں گے۔

جمعرات کو برطانوی عوام ایک تاریخی ریفرنڈم میں برطانیہ کے براعظم یورپ کے 28 ممالک کے اتحاد میں رہنے یا الگ ہونے کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں۔

ریفرنڈم سے قبل پچھلے چند دنوں کے دوران شائع ہونے والے انتخابی سروے کے نتائج میں برطانیہ کی یورپی یونین میں رہنے کی مہم نے سبقت حاصل کر رکھی ہے۔

تاہم کچھ پولز کے نتائج بتا رہے ہیں کہ 'ریمین' یعنی تنظیم میں رہنے کی مہم اور 'بریگزٹ' یعنی تنظیم سے نکلنے کی مہم کے درمیان جمعرات کو ایک انتہائی قریبی مقابلہ ہو گا۔

دوسری جانب یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد یورپی یونین کی رکنیت پر ووٹ دینے کی اہل ہو گی۔ رجسٹرڈ ووٹروں میں شامل ناصرف برطانوی شہری بلکہ آئرش اور دولت مشترکہ ممالک کی شہریت رکھنے والے لوگ بھی اس ریفرنڈم میں ووٹ ڈال سکیں گے۔

انتخابی جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ایسے ووٹروں کی تعداد اب بھی بڑی ہے، جو اپنے ووٹ کے استعمال کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

لہذا ریفرنڈم کے نتائج کے حوالے سے ایک عام تاثر یہ ابھرتا ہے کہ برطانوی عوام کے لیے جمعرات کی رات طویل بھی ہو سکتی ہے جب ملک کے طول و عرض میں ووٹرز اپنی سانسیں روکے فیصلے کے منتظر ہوں گے۔

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ 23 جون کو ہونے والے ریفرنڈم کے لیے دونوں فریقین کی جانب سے یورپی اتحاد میں رہنے یا چھوڑنے کے حوالے سے کیا دلائل پیش کئے گئے ہیں جن کی بنیاد پر وہ اپنے ووٹروں کی حمایت حاصل کر سکیں گے۔

معیشت : یورپی اتحاد کی حمایت کی مہم کے دوران ووٹروں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یورپی یونین کا برطانوی معیشت میں اہم کردار ہے جیسا کہ 44 فیصد برطانوی برآمدات یورپی یونین کے ساتھ کی جاتی ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے جبکہ ووٹروں کو اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کی صورت میں تجارت کا معاہدہ اور شرائط کیا ہوں گی، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

یورپی یونین چھوڑنے کی مہم کے دوران ووٹروں کو بتایا گیا کہ برطانیہ کی طرف سے یورپی یونین کو فی ہفتہ 350 ملین پاؤنڈ ادا کیا جاتا ہے جبکہ یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں اور دولت مشترکہ کی طرف اپنی توجہ مبذول کر سکتا ہے۔

امیگریشن : یونین کی حمایت کی مہم کا دعویٰ ہے کہ امیگریشن معیشت کو فروغ فراہم کرتی ہے اور اور برطانیہ کو ایک مارکیٹ تک رسائی کے لیے آزادانہ نقل و حرکت کو قبول کرنا پڑتا ہے۔

تنظیم چھوڑنے کی مہم کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں امیگریشن کا نظام بے قابو ہو چکا ہے اور عوامی خدمات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے خاص طور پر یورپی یونین سے نقل مکانی کرنے والے تارکین وطن کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے دریں اثناء یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت امیگریشن پر مزید دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔

خود مختاری : تنظیم میں رہنےکی مہم کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں رہتے ہوئے برطانیہ اہم معاملات کےحوالے سے قوانین کو ویٹو کرنے کا حق حاصل کر سکتا ہے اور یورپی یونین کے وسیع قانون سازی میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔

تنظیم چھوڑنے کی مہم کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے اکثریتی قوانین و ضوابط یورپی یونین کی طرف سے بنائے جاتے ہیں اور یورپی یونین کے ارکان برطانیہ میں ایسے قوانین لا سکتے ہیں جو برطانیہ نہیں چاہتا ہے۔

سلامتی : یورپی اتحاد کی حمایت کی مہم کا استدلال ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ میں امن و استحکام کو فروغ ملتا ہےجس کے ساتھ سکیورٹی انٹیلی جنس شیئر کی جاتی ہے اور یورپی وارنٹ گرفتاری کا استعمال کرتے ہوئے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کسی بھی شخص کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم چھوڑنے کی مہم کا خیال ہے کہ یورپی یونین کے شہریوں کو برطانیہ میں آزاد نقل وحرکت کا حق حاصل ہے لہذا دہشت گردوں اور ہتھیاروں کا برطانیہ تک پہنچنا آسان ہے۔

ملازمت: یورپی اتحاد میں رہنے کی مہم کی طرف سے ووٹروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے سے برطانوی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے جو مستقبل میں لاکھوں ملازمتوں کے نقصان کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

تنظیم چھوڑنے پر اصرار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے نتیجے میں کچھ ابتدائی اقتصادی نقصانات ہوسکتے ہیں لیکن طویل مدت میں بریگزٹ کی اصطلاح مزید ملازمتیں پیدا کرے گی۔

رہن سہن کے اخراجات: یورپی اتحاد کی مہم کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے یونین سے نکلنے کے نتیجے میں ملک بھر میں اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ پاؤنڈ کی قدر میں کمی آنے کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر ائر لائن کے سفر کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔

تنظیم چھوڑنے کی مہم کا اندازا ہے کہ رہن سہن کے اخراجات بریگزٹ کے نتیجے میں کم ہو جائیں گے جیسا کہ برطانیہ اہم اشیاء کو یورپی یونین کی قیمتوں کے بجائے عالمی قیمتوں میں درآمد کر سکے گا۔

برطانوی صحت عامہ کا ادارہ این ایچ ایس: تنظیم کےحق میں چلائی جانے والی مہم کا استدلال ہے کہ این ایچ ایس کی مستقبل کی فنڈنگ برطانیہ کی معیشت کی ترقی پر انحصار کرتی ہے اور بریگزٹ کے نتیجے میں مندی عوامی اخراجات میں کمی کا سبب بنے گی جس کا این ایچ ایس پر اثر پڑے گا۔

این ایچ ایس کے معاملے پر بریگزٹ مہم کا کہنا ہے کہ یورپی یونین چھوڑنے کا مطلب ہے کہ فی ہفتہ برطانیہ 100 ملین پاؤنڈ کے اضافی اخراجات سے آزاد ہو جائے گا جسے 2020ء تک این ایچ ایس پر خرج کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG