رسائی کے لنکس

logo-print

کوہستان ویڈیو اسکینڈل: کب کیا ہوا؟


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خيبر پختونخوا ميں عدالت نے جمعرات کو کوہستان ويڈيو اسکينڈل کا فيصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو عمر قيد کی سزا سنائی جبکہ پانچ کو بری کر ديا ہے۔

کوہستان میں غيرت کے نام پر ہونے والے قتل کا محرک ایک ويڈيو تھی۔ یہ ویڈیو 2012 ميں منظر عام پر آئی تھی۔

کوہستان کے گاؤں 'غدر پلاس' ميں ايک شادی کی تقريب میں دو لڑکوں کے رقص جبکہ پانچ لڑکيوں کے تالياں بجانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

ویڈیو کا یہ معاملہ مقامی جرگے میں گیا۔ جہاں جرگے نے ان لڑکیوں کے قتل کا فیصلہ کیا بعد ازاں مبینہ طور پر ان لڑکیوں کو قتل کر دیا گيا۔

مقامی سماجی کارکن افضل کوہستانی نے اس واقعے پر ميڈيا کی توجّہ اس واقعے کی جانب دلوائی۔

افضل کوہستانی نے دعویٰ کيا تھا کہ لڑکيوں کے علاوہ ان دو لڑکوں کو بھی قتل کيا گيا ہے جو شادی ميں رقص کر رہے تھے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مسلسل احتجاج کے بعد سپريم کورٹ کے اس وقت کے چيف جسٹس افتخار محمّد چوہدری نے اس واقعے کا ازخود نوٹس ليتے ہوئے عدالتی کميشن قائم کرنے کا حکم ديا۔

اس کميشن کی رپورٹ ميں لڑکيوں کو زندہ قرار ديا گيا تھا لیکن کميشن کی رکن اور انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری نے اس رپورٹ سے اختلاف کيا تھا۔

سپريم کورٹ نے خاتون جوڈيشل افسر منيرہ عباسی کی سربراہی ميں ایک اور کميشن قائم کيا جب کہ 2016 ميں داسو اور کوہستان کے اس وقت کے ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج محمّد شعيب کی سربراہی ميں بھی تحقيقاتی کميشن قائم ہوا تھا۔

محمّد شعيب کی سربراہی ميں قائم ہونے والے کميشن نے اپنی رپورٹ ميں لڑکيوں کے زندہ ہونے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کيا اور عدالت سے فرانزک تحقيقات کی درخواست کی تھی۔

عدالت نے ایک خصوصی بینچ تشکيل ديتے ہوئے پوليس کو حکم ديا کہ تحقيقات مکمل کرکے عدالت ميں رپورٹ پيش کی جائے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے رواں سال کے ابتدائی دنوں میں مقدمے کی سماعت کی تھی۔

عدالتی سماعت میں خیبر پختونخوا پولیس نے تسلیم کیا کہ تین لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں اور لواحقین نے بیان حلفی دیا ہے کہ دو لڑکیاں زندہ ہیں اور انہیں پیش کر دیا جائے گا۔

مقدمے کے مدّعی افضل کوہستانی اپنی بات پر بضد تھے کہ پانچوں لڑکيوں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ پوليس بھی اپنے دعوے کے مطابق باقی دو لڑکيوں کا سراغ لگانے ميں ناکام رہی ہے۔

کوہستان ويڈيو اسکينڈل سامنے لانے والے افضل کوہستانی کو بھی رواں برس مارچ ميں ايبٹ آباد میں قتل کر ديا گيا تھا۔

خیال رہے کہ کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے معاملے میں اب تک ميں پانچ لڑکيوں سميت افضل کوہستانی اور ان کے تين بھائی قتل ہو چکے ہيں۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکن فرزانہ باری اس مقدمے کے عدالتی فيصلے سے مايوس ہيں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کے فوجداری نظام کو ديکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کیس کے باقی ملزمان جلد يا بدير رہا ہو جائيں گے۔

’وائس آف امريکہ‘ سے بات کرتے فرزانہ باری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جن لوگوں نے عدالت سے جھوٹ بولا انہیں بھی سزا دی جائے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ دو لڑکياں زندہ ہيں وہ انہيں پيش کيوں نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک لوگوں کو سزائيں نہیں دی جائیں گی لوگ اسی طرح عدالت سے جھوٹ بولتے رہيں گے۔

دوسری جانب افضل کوہستانی کے بھائی بن ياسر نے ’وائس آف امريکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی فيصلے کو مايوس کن قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وکيل سے مشورے کے بعد اس فيصلے کو ہائی کورٹ ميں چيلنج کريں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں نامزد تمام آٹھ ملزمان مجرم ہيں اور ان سب کو سزا ملنی چاہیے تھی۔

افضل کوہستانی کے بھائی نے بتايا کہ ان کی جان کو بھی خطرات ہیں لیکن پوليس انہيں خاطر خواہ سکیورٹی فراہم نہیں کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظيموں کے مطابق پاکستان میں ہر سال متعدد افراد غيرت کے نام پر قتل ہوتے ہيں۔

انسانی حقوق کی تنظيميں مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی ہيں لیکن حکومتی اقدامات کے باوجود ان واقعات ميں کمی نہیں آ سکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG