رسائی کے لنکس

اولمپک گیمز میں احتجاج کی کہانی، اولمپکس کی تاریخ جتنی ہی پرانی


رواں برس اولمپک گیمز میں اب تک فٹ بال مقابلوں، فینسنگ، شاٹ پٹ اور جمناسٹک میں احتجاج ہو چکا ہے اور امکان ہے کہ آگے بھی ایسا ہی ہو گا۔

کرونا وبا کے سائے تلے ٹوکیو میں جاری اولمپک گیمز 1975 کے بعد پہلے اولمپک گیمز ہیں جن میں ایتھلیٹس کو مشروط احتجاج کا حق حاصل ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک چارٹر کے قاعدہ نمبر 50 کے مطابق اولمپک گیمز کے دوران کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی تھی جس میں گزشتہ ماہ ترمیم کر دی گئی تھی۔

اب نئے قانون کے مطابق کھلاڑی احتجاج تو کر سکیں گے لیکن گیمز کے دوران، صحافیوں کے سامنے، ٹیم میٹنگز کے دوران اور اولمپک ویلج میں احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی۔

گزشتہ برس امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور ملک گیر احتجاج کے بعد امریکی اولمپک اور پیرالمپک کمیٹی نے اس قانون میں نرمی کی تجویز دی تھی۔

ٹوکیو اولمپک گیمز میں اب تک فٹ بال، فینسنگ، شاٹ پٹ اور جمناسٹک کے مقابلوں میں احتجاج ہو چکا ہے۔

لیکن کیا اولمپک گیمز میں احتجاج کا یہ سلسلہ نیا ہے یا اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے؟

کچھ ایسے ہی واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے اولمپک گیمز کے اسٹیج کو کسی مقصد کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

آئرش ایتھلیٹ پیٹر او کونر

سن 1906 میں یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہونے والے 'انٹرکلیٹڈ گیمز' کو اس زمانے میں اولمپک کمیٹی کی سپورٹ حاصل تھی۔ اسی لیے اس وقت انہیں اولمپک گیمز ہی مانا گیا لیکن بعد میں اس کا درجہ تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ایتھلیٹ پیٹر او کونر کی وجہ سے آج بھی یہ کھیل شائقین کو یاد ہے کیوں کہ اس آئرش ایتھلیٹ نے برطانیہ کے جھنڈے تلے میڈل لینے سے انکار کر دیا تھا۔

جب آئرش ایتھلیٹ کو لانگ جمپ میں چاندی کا تمغہ دینے کی تقریب ہو رہی تھی تو انہوں نے یونین جیک کی جگہ اپنے ساتھ لائے ہوئے آئرش جھنڈے کو اس کی جگہ پول پر نصب کر دیا تھا۔

اس واقعے کے 10 برس بعد آئرلینڈ اور برطانیہ کے درمیان جنگِ آزادی کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں آئرلینڈ کا قیام ممکن ہوا تھا۔

اس احتجاج کے ساتھ ہی پیٹر او کونر نے دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر کسی بھی قسم کے احتجاج کی بھی بنیاد رکھی تھی۔

سیاہ فام امریکی ایتھلیٹ جیسسی اوئنز

سن 1936 میں اولمپک گیمز کا انعقاد جرمنی میں ہوا تھا اور جرمن چانسلر ایڈولف ہٹلر اس موقع کو دنیا میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

ہٹلر کا خیال تھا کہ صرف جرمن ہی وہ قوم ہے جو دنیا پر حکومت کرنے کے قابل ہے اور باقی اس سے کمتر ہیں۔ لیکن اُس وقت امریکی ٹریک اسٹار جیسسی اوئنز کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔

امریکی ٹریک اسٹار جیسسی اوئنز نے اولمپکس میں ایک یا دو نہیں بلکہ چار طلائی تمغے اپنے نام کیے تھے۔

سو میٹر ریس میں جیسسی اوئنز سے تیز کوئی نہیں تھا جب کہ دو سو میٹر ریس میں انہوں نے اس وقت کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ لیکن تیسرے میڈل کے لیے امریکی ٹریک اسٹار کو مدد کی ضرورت تھی جو انہیں مقامی ایتھلیٹ سے ملی تھی۔

لانگ جمپ کے مقابلوں میں جیسسی اوئنز ٹھیک جمپ نہیں کر پا رہے تھے۔ پہلی دو کوششوں میں ان کا پاؤں ٹیک آف لائن کو چھو رہا تھا، جو فاؤل ہوتا ہے۔

تیسرے اور آخری موقع سے قبل ان کے مخالف جرمن کھلاڑی لز لونگ نے جیسسی اوئنز کو مشورہ دیا تھا کہ جہاں وہ اپنا تولیہ رکھیں وہ وہیں سے جمپ کریں اور جرمن کھلاڑی نے اپنا تولیہ ٹیک آف لائن سے ایک فٹ پہلے نشانی کے لیے رکھ دیا تھا۔

جیسی اوئنز نے تیسرے موقع پر نہ صرف ٹھیک جمپ کی بلکہ آگے جا کر ایونٹ میں گولڈ میڈل بھی جیتا۔ ان کی اس کامیابی کے بعد لز لونگ نے انہیں نہ صرف مبارک باد دی بلکہ دونوں کھلاڑی ہٹلر کے سامنے سے گزرے۔

لیکن اس واقعے کے بعد ہٹلر نے میڈل کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی۔

سیاہ فام امریکی ایتھلیٹ ٹامی اسمتھ اور جان کارلوس

ساٹھ کی دہائی میں امریکہ میں نسلی تعصب اور اس کے خلاف مظاہرے عروج پر تھے۔

میلکم ایکس اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ سیاہ فام امریکیوں کے لیڈر بن کر اُبھرے تھے لیکن جب 1965 میں میلکم ایکس اور 1968 میں مارٹن لوتھر کنگ کو قتل کیا گیا تھا تو افریقی نژاد امریکیوں کا غصہ اور حکومت کا جوابی وار تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

ایسے میں جب اولمپک گیمز میں دو سیاہ فام امریکی ٹامی اسمتھ اور جان کارلوس دو سو میٹر ریس جیتے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دونوں کھلاڑی احتجاج کریں گے۔

سونے اور کانسی کا تمغہ جیتنے والے سیاہ فام ایتھلیٹس ٹامی اسمتھ اور جان کارلوس نے میڈل تقریب میں 'بلیک پاور سلیوٹ' کیا جس میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے آسٹریلوی اسپرنٹر پیٹر نارمن نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔

دونوں امریکی اسپرنٹرز کو اولمپک گیمز سے واپس بھیجنے کے ساتھ ساتھ پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا جب کہ آسٹریلوی ٹریک اسٹار کو بھی بقیہ مقابلوں سے دست بردار ہونا پڑا تھا۔

اس احتجاج نے نہ صرف دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی تھی بلکہ اسے آج بھی نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا احتجاج

ویسے تو 1972 کے اولمپک گیمز کو 'میونخ میسیکر' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی ہاکی ٹیم کے مداحوں کے لیے فائنل میں جو ہوا وہ بھلایا نہیں جا سکتا۔

یہ وہ وقت تھا جب بھارت اور پاکستان کے علاوہ کوئی تیسری ٹیم اولمپک میں گولڈ میڈل نہیں جیتتی تھی۔ ایسے میں میزبان مغربی جرمنی نے نہ صرف پاکستان کو میچ ہرایا بلکہ طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔

پاکستان ہاکی ٹیم کو امپائر کے فیصلوں پر اعتراض تو تھا ہی جب کہ مداحوں نے بھی اسٹیڈیم میں خوب ہنگامہ کیا اور میچ بھی روکنے کی کوشش کی اور جب میڈل تقریب ہوئی تو پہلے پاکستانی کھلاڑیوں نے مغربی جرمنی کے جھنڈے کی طرف منہ کے بجائے کمر کی اور پھر بعد میں میڈل پہننے سے بھی انکار کیا۔

کچھ کھلاڑیوں نے میڈل اپنے جوتوں پر رکھ کر ارجنٹائن کے امپائر کے فیصلوں کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

اس واقعے کے بعد انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کپتان اسد ملک، شہناز شیخ، اصلاح الدین، منور الزمان اور اختر رسول سمیت 11 پاکستانی کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگا دی تھی جسے پی ایچ ایف کی معافی کے بعد دو برس تک محدود کر دیا گیا تھا۔

امریکہ اور روس کی جانب سے اولمپکس کا بائی کاٹ

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سن 1980 میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے اولمپک گیمز کا بائی کاٹ یہ کہہ کر کیا کہ اگر روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائیں تو کوئی بھی امریکی اتحادی میگا ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا۔

روس نے امریکہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں اولمپک میں 66 ممالک کی غیر حاضری کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ان ممالک میں امریکہ، کینیڈا، چین، ایران، پاکستان،جاپان اور ترکی شامل تھے۔

اس واقعے کے بعد 1984 میں روسی ایتھلیٹ جواب میں لاس اینجلس اولمپکس میں شرکت کے لیے امریکہ نہیں گئے تھے۔

لیکن 1984 میں 66 ممالک کے مقابلے میں صرف 14 ممالک نے اولمپکس کا بائی کاٹ کیا تھا جس میں روس، بلغاریہ، مشرقی جرمنی اور افغانستان شامل تھے۔

یاد رہے کہ سن 1984 کے اولمپک گیمز میں ریکارڈ 140 ممالک کی شرکت سے روس کو دھچکہ تو لگا لیکن اس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائیں تھیں۔

ایتھوپین ایتھلیٹ فئیسا للیسا

سن 2016 میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے اولمپک گیمز میں اس وقت دلچسپ صورتِ حال دیکھنے میں آئی جب ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے فئیسا للیسا نے میراتھن ریس کے اختتام پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

ایتھوپین رنر نے فنش لائن پر پہنچتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر 'کراس' کا نشان بنایا تھا جس کا مقصد ایتھوپیا میں اورومو قبیلے کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جانب توجہ دلانا تھا۔

میراتھن ریس میں سلور میڈل جیتنے کے بعد ایتھوپین ایتھلیٹ نے کہا کہ اگر وہ واپس اپنے وطن گئے تو انہیں یا تو مار دیا جائے گا یا پھر قید کر دیا جائے گا۔

دو برس بعد جب ایتھوپیا میں حکومت بدلی تو فئیسا للیسا کی واپسی ہوئی۔ یہ اس فعل کی وجہ سے اپنی اورومو کمیونٹی میں بے حد مقبول ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG