رسائی کے لنکس

ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کے ارشد ندیم جیولن تھرو کے فائنل میں پہنچ گئے


ارشد ندیم نے فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں جاری اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کے کھلاڑی ارشد ندیم نے مردوں کے 'جیولن تھرو' (نیزہ پھینکے کا مقابلہ) کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ جس کے بعد اولمپکس میں 29 سال بعد پاکستان کے لیے پہلا تمغہ جیتنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

ٹوکیو میں کھیلے گئے کوالیفائی راؤنڈ کے گروپ بی میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم پہلے نمبر پر رہے جب کہ وہ گروپ اے اور بی میں مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر رہے۔

ارشد ندیم نے گروپ بی میں 85 اعشاریہ 16 کی لانگ تھرو پھینک کر گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کے گروپ میں کوالیفائی کرنے والے دیگر کھلاڑیوں کا تعلق چیک ری پبلک اور جرمنی سے ہے، جنہوں نے بالترتیب 84 اعشاریہ 93 اور 84 اعشاریہ 41 کی تھرو پھینکی۔

مردوں کے جیولن تھرو کے کوالیفائی راؤنڈ میں گروپ اے میں بھارت کے نیرج چوپڑا پہلے نمبر پر رہے اور انہوں نے 86 اعشاریہ 65 کی تھرو پھینکی۔ گروپ اے میں دوسرے نمبر پر جرمنی اور تیسرے نمبر پر فن لینڈ کے ایتھلیٹ رہے جنہوں نے بالترتیب 85 اعشاریہ 64 اور 84 اعشاریہ 50 کی لانگ تھرو پھینکی۔

ارشد ندیم نے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
ارشد ندیم نے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

فائنل میں پہنچنے کے لیے کوالیفائی راؤنڈ میں 83 اعشاریہ 50 کی تھرو درکار تھی۔ گروپ بی میں ارشد ندیم کے علاوہ 15 دیگر ایتھلیٹ بھی موجود تھے۔

مجموعی طور پر دونوں گروپس میں بھارتی کھلاڑی پہلے، جرمنی کے کھلاڑی دوسرے اور پاکستان کے ارشد ندیم تیسرے نمبر پر رہے۔

جیولن تھرو کا فائنل سات اگست کو ہو گا جس میں ارشد ندیم پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

چوبیس سالہ ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں سے ہے اور وہ پاکستان میں واپڈا سے منسلک ہیں۔ 2019 میں نیپال میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں انہوں نے ایک انوکھا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔ انہوں نے جیولن تھرو میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور نیزہ پھینک کر نہ صرف طلائی تمغہ جیتا تھا بلکہ قومی اور ساؤتھ ایشین گیمز کا ریکارڈ بھی توڑ دیا تھا۔

ارشد ندیم اس کے علاوہ بھی انٹرنیشنل لیول پرپاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور کئی مرتبہ کامیابی بھی سمیٹ چکے ہیں جس میں 2017 میں آذربائیجان کے شہر باکو میں ہونے والے اسلامی یکجہتی مقابلوں اور ایشین گیمز 2018 میں جیتے گئے کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

بدھ کو ارشد ندیم کی فائنل تک رسائی پر نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ مداح بھی کافی خوش ہیں اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر ان کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔

علی نقوی رضوی نامی صارف نے ٹوئٹر پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ارشد ندیم کا ہیش ٹیگ استعمال کیا اور انہیں 'چیتا' کہہ کر مخاطب کیا۔

شیراز حسن نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ بہترین لمحہ ہے یہ، پاکستان کے ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ میڈل کی امیدیں اب تک زندہ ہیں۔

ان کے بقول فائنل میں بھارت کے نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

فیضان نجیم نامی صارف نے لکھا کہ کیا زبردست خبر ہے۔

عبدالغفار نامی صارف نے ارشد ندیم کی کارکردی پر ٹوئٹ کیا کہ 'شاباش، کیا کارکردی تھی، میڈل اور فائنل کے لیے نیک تمنائیں۔'

ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ہوسکتا ہے 29 سالہ میڈل کا انتظار سات اگست کو ختم ہو جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اولمپکس گیمز میں آخری مرتبہ 1992 میں میڈل اس وقت جیتا تھا جب شہباز احمد کی قیادت میں پاکستان ہاکی ٹیم نے بارسلونا میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG