رسائی کے لنکس

logo-print

سمندری طوفانوں کے نام کون رکھتا ہے؟


سمندری طوفان ''تاؤتے'' بھارت کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا ہے۔

بحیرۂ عرب میں بننے والا سمندری طوفان 'تاؤتے' بھارت کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے پیر کی شب ٹکرا گیا ہے جس کے بعد وہاں تباہی کے مناظر ہیں۔ بھارت کی مغربی ریاستوں میں اس طوفان کے سبب اب تک ایک درجن سے زائد افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ماہرین ’تاؤتے‘ کو گزشتہ 20 برسوں میں آنے والا سب سے طاقتور طوفان قرار دے رہے ہیں۔

ماضی میں بھی بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں اس طرح کے طوفان بنتے رہے ہیں اور انہیں باقاعدہ کوئی نہ کوئی نام دیا جاتا رہا ہے۔

اس مرتبہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار نے اس طوفان کا نام 'تاؤتے' تجویز کیا تھا۔ سمندر میں طوفان بننے کے بعد میانمار کی باری تھی کہ وہ سائیکلون کا نام دے گا۔

سمندری طوفانوں کے نام کس طرح رکھے جاتے ہیں؟

سمندری طوفانوں کے نام رکھنے کے حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک کا ایک پینل ہے جسے پینل اینڈ ٹروپیکل سائیکلون (پی ٹی سی) کہا جاتا ہے۔

اس پینل میں ابتدائی طور پر سات ممالک تھے جن کی تعداد بڑھ کر اب 13 ہو گئی ہے جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ، مالدیپ، سری لنکا، عمان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

سن 2004 سے قبل طوفان کے اس طرح کے ناموں کی کوئی روایت نہیں تھی جس طرح آج ان کے نام رکھے جاتے ہیں۔ ماضی میں سمندری طوفانوں کو ان کے نمبر سے یاد رکھا جاتا تھا۔

سن 1999 میں ایک سائیکلون پاکستان کے شہر بدین اور ٹھٹھہ سے ٹکرایا تھا، تب اس کا نام Zero 2-A تھا جو اس سیزن کا بحیرۂ عرب کا دوسرا طوفان تھا۔

بعد ازاں 'پی ٹی سی' میں تمام ممالک کے محکمۂ موسمیات کے درمیان یہ طے پایا کہ طوفانوں کے ایسے نام ہونے چاہئیں جو یاد رکھنے میں آسان ہوں، ادا کرنے میں سہل ہوں۔

پی ٹی سی کے رکن ممالک کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ ہر ملک باری باری سمندری طوفان کو ایک ایک نام دے گا۔ اس طرح 2004 میں ایک فہرست بنائی گئی جو 2020 تک رہی اور اس میں طوفانوں کے جو نام تجویز کیے گئے ان تمام کو استعمال کیا گیا۔

پاکستان نے اس فہرست میں جن طوفانوں کے نام تجویز کیے تھے ان میں فانوس، نرگس، لیلیٰ، نیلم، نیلوفر، وردہ، تتلی اور بلبل شامل ہیں۔

سن 2020 میں اس فہرست کا مجوزہ آخری نام 'ایمفن' تھا۔ یہ طوفان خلیجِ بنگال میں بنا تھا اور اس کا رخ بھارت کی جانب تھا بعد ازاں پی ٹی سی کے تمام 13 رکن ملکوں نے گزشتہ برس طوفانوں کے ناموں کی ایک نئی فہرست ترتیب دی تھی۔

یاد رہے کہ طوفانوں کے نام رکھنے کے لیے پی ٹی سی میں شامل رکن ملکوں کے انگریزی حروفِ تہجی کی ترتیب سے ان ملکوں کی باری آتی ہے۔ مثلاً 2020 میں بننے والی نئی فہرست کا سب سے پہلا نام بنگلہ دیش کا تجویز کردہ رکھا گیا جو 'نسارگا' تھا۔

بعدازاں بھارت، ایران اور مالدیپ کے ناموں کا نمبر آیا۔ اب میانمار کی باری تھی تو حالیہ طوفان کا نام 'تاؤتے' اسی کا تجویز کردہ ہے۔

اگر مستقبل میں کوئی طوفان آتا ہے تو عمان کا تجویز کردہ نام 'یاس' رکھا جائے گا جس کے بعد پاکستان کے مجوزہ نام 'گلاب' کا نمبر آئے گا۔

2020 میں ترتیب دی گئی فہرست میں پاکستان کے تجویز کردہ نام

پاکستان نے گزشتہ برس پی ٹی سی کی ترتیب دی گئی فہرست میں طوفانوں کے جو نام تجویز کیے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔ گلاب، اثنا، صاحب، افشاں، مناحل، شجانہ، پرواز، زناٹا، صرصر، بادبان، سراب، گلنار اور واثق۔

سن 2020 کی فہرست میں سمندری طوفانوں کے ناموں کے کُل 13 کالم ہیں۔ ہر کالم میں اسی طرح مجوزہ ناموں کو ملکوں کے حروفِ تہجی کی ترتیب سے رکھا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG