رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: حکام نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات منسوخ کردیے


حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ مظاہرین کی جانب سے سرکاری عمارتوں کا محاصرہ ختم نہ کرنے کے بیانات کے بعد کیا ہے۔

ہانگ کانگ کے حکام نے شہر کے مختلف علاقوں پر قابض جمہوریت پسند مظاہرین کے ساتھ جمعے کو ہونے والے مذاکرات منسوخ کردیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ مظاہرین کی جانب سے سرکاری عمارتوں کا محاصرہ ختم نہ کرنے اور اپنی سول نافرمانی کی تحریک جاری رکھنے کے بیانات کے بعد کیا ہے۔

جمعرات کی شب ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ہانگ کانگ کی چیف سیکریٹری کیری لیم نے مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا۔

کیری لیم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت خود کو مظاہرین کے ممکنہ غیر قانونی اقدامات سے دور رکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ قبول نہیں کہ مظاہرین کے ساتھ حکام کے مذاکرات کو بعض لوگ انتظامیہ کی جانب سے 'آکیو پائے سینٹرل' نامی تحریک کے اقدامات تسلیم کرنے کے مترادف قرار دے دیں۔

اپنی پریس کانفرنس میں ہانگ کانگ کی انتظامیہ کی نائب سربراہ نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے شہر کے مرکزی مقامات پر دو ہفتوں سے جاری دھرنوں میں توسیع کی دھمکی دینا ان کی بدنیتی کا اظہار ہے۔

چیف سیکریٹری کی پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل مظاہرین کی قیادت کرنے والے بعض طالبِ علم رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ جمعے کو ہونے والے مذاکرات سے قبل دو ہفتوں سے جاری اپنے دھرنے ختم نہیں کریں گے۔

مظاہرین کی 'آکیوپائے سینٹرل' نامی تحریک کے رہنماؤں اور مظاہرے میں شریک طلبہ تنظیموں کے اتحاد نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں شہر کے مزید علاقوں پر قبضے اور مزید تعلیمی اداروں میں کلاسز کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی تھی۔

مظاہرین ہانگ کانگ کی مقامی حکومت کے چیف ایگزیکٹو لیونگ چن یِنگ کے استعفے اورچینی حکومت کے اس فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے تحت 2017ء میں ہانگ کانگ میں ہو نے والے انتخابات میں امیدواروں کی جانچ پڑتال بیجنگ حکومت کرے گی۔

مظاہرین کے ایک رہنما اور 'ہانگ کانگ فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ' کے عہدیدار ایلکس چاؤ نے حکومت پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کی بنیاد پر حکومت مذاکرات منسوخ کر رہی ہے۔

طالبِ علم رہنما کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے قبل حکومت پر دباؤ بڑھانا ضروری تھا تاکہ مذاکرات میں ہانگ کانگ میں براہِ راست انتخابات کے مطالبے پر پیش رفت ہوسکے۔

احتجاجی رہنما نے اپنے ساتھی مظاہرین پر زور دیا کہ وہ عوامی مقامات پر دھرنے دیے رہیں اور سرکاری عمارتوں کا محاصرہ جاری رکھیں۔

ایلکس چاؤ نے ہانگ کانگ کے چین نواز حکام کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کےاعلان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ ایک بین الاقوامی شہر ہے جس کے حکام کا مظاہرین کے ساتھ بات چیت سے انکار عالمی برادری میں اپنا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔

طالبِ علم رہنما نے کہا کہ اگر ہانگ کانگ کی حکومت اپنے شہریوں کے آئینی اصلاحات کے جائز مطالبات تسلیم کرنے میں سنجیدہ نہیں تو ان کا اگلا قدم سول نافرمانی کی تحریک کو مزید وسعت دینا ہوگا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہانگ کانگ میں دو ہفتے قبل شروع ہونے والے ان دھرنوں میں ابتداً ہزاروں افراد شریک تھے جن کی تعداد اب گھٹ کر چند سو رہ گئی ہے۔

شہر کے مرکزی مقام پر مظاہرین کے دھرنوں کے باعث نہ صرف تجارتی سرگرمیاں اور مقامی حکومت کے دفاتر میں کام بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ شہر میں ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہورہا ہے۔

دھرنوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کے خلاف ہانگ کانگ کی مقامی آبادی کی جانب سے ردِ عمل بھی سامنے آرہا ہے اور کئی حلقوں نے مظاہرین اور ان کے رہنماؤں کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لیکن احتجاجی تحریک کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ ان کے احتجاج کے باعث عوام کو جو "تھوڑی بہت" مشکل برداشت کرنا پڑ رہی ہے وہ "حقیقی جمہوریت کے حصول کی قیمت" ہے۔

ہانگ کانگ کی مقامی انتظامیہ اور چین کی حکومت ان مظاہروں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے تاہم انہوں نے اب تک مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG