رسائی کے لنکس

ہانگ کانگ کی لائبریریوں سے جمہوری نظریات پر مبنی کتابیں غائب


ایک خانون ہانگ کانگ کی ایک پبلک لائبریری میں ایک جمہوریت پسند مصف کی کتاب ڈھونڈ رہی ہے۔ نئے قانون کے بعد جمہوری نظریات پر مبنی کتابیں اٹھا لی گئی ہیں۔ 4 جولائی 2020

دنیا کے ایک اہم مالیاتی مرکز ہانگ کانگ میں سیکیورٹی کے ایک آمرانہ قانون کے نفاذ کے بعد ممتاز جمہوریت پسند مصنفین کی کتابیں شہر کی لائبریریوں اور کتابوں کی دکانوں سے غائب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

جن مصنفین کی کتابیں اب دستیاب نہیں رہیں، ان میں شہر کے ایک ممتاز سرگرم کارکن جوشوا وانگ اور ایک معروف جمہوریت پسند قانون ساز تانیا چن شامل ہیں۔

بیجنگ کی جانب سے منگل کے روز قومی سلامتی کے ایک نئے قانون کے نفاذ کے بعد, اس نیم خود مختار شہر کے نظم و نسق کو سن 1997 میں برطانیہ سے چین کو منتقلی کے بعد جس انداز میں چلایا جا رہا تھا، یہ اس میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔

ہانگ کانگ میں گزشتہ ایک سال سے جاری جمہوریت نواز مظاہروں کے بعد چین کے آمریت پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے علاقے میں استحکام آئے گا اور اس سے مقامی قانون میں دی گئی آزادیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ان قوانین کا ہدف ایک بہت چھوٹا گروہ ہو گا۔

جب کہ ہانگ کانگ کے زمینی حالات ایک دوسری کہانی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ پولیس ان لوگوں کو پکڑ رہی ہے جو آزادی اور زیادہ خودمختاری کے نعرے لگاتے رہے ہیں۔ اسی طرح کاروباری افراد اپنی دکانوں اور اسٹوروں سے جمہوریت نواز بینر اتار رہے ہیں۔

پبلک لائبریری کی ویب سائٹ پر سرچ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ وہاں سے وانگ، چن اور ہانگ کانگ کے ایک اور اسکالر چن وان کی کم از کم تین تین کتابیں غائب ہو چکی ہیں۔ ان مصنفین کی کتابین شہر کی درجنوں لائبریریوں میں سے کسی کے پاس بھی مستعار لے کر پڑھنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ کئی کیسز اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور اس نے اپنی سیکیورٹی فورسز کی قوت میں اضافہ کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپس اور قانونی پہلوؤں پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے الفاظ، جنہیں نفاذ تک خفیہ رکھا گیا تھا، کچھ سیاسی نظریات کو خلاف قانون قرار دیتے ہیں، چاہے اس کا اظہار پرامن طریقے سے ہی کیوں نہ کیا جائے۔

آزادی یا وسیع تر خود مختاری کے مطالبات کو پھیلانے پر قانون سازی کے تحت بظاہر پابندی لگ گئی ہے۔ قانون کی ایک اور مبہم شق میں چین اور ہانگ کانگ کی حکومت کے خلاف نفرت کے اظہار پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

چین کے حکمران اپنی سرزمین پر مخالفین کو کچلنے کے لیے اسی جیسے قومی سلامتی کے قانون کا اطلاق کرتے ہیں۔

لائبریریوں سے کتابیں اٹھائے جانے اور قومی سلامتی کے سخت تر قانون کے نفاذ کے بعد اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا آزادنہ ماحول برقرار رہ سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG