رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی مظاہرین کے ساتھ عالمی اور بڑے امریکی اداروں کا اظہار یکجہتی


نیدرلینڈز کے مرکزی شہر ایمسٹرڈم میں سیاہ فام امریکی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرہ۔ یکم جون 2020

دنیا کے متعدد بڑے شہروں میں امریکہ میں جاری مظاہروں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف غیر معمولی طور پر امریکہ کی بعض بڑی کمپنیوں نے سیاہ فام امریکی کے قتل کے خلاف اور اس کے بعد جاری احتجاجی مظاہروں کے حق میں بیانات دیے ہیں۔

پیر کے روز نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں ہزاروں افراد نے ان احتجاجی مظاہروں کے حق میں مارچ کیا جو امریکہ بھر میں پولیس کی تحویل میں ایک سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

آک لینڈ میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کرنے والوں نے وہی نعرے لگائے جو امریکہ میں احتجاجی مظاہروں میں لگائے جا رہے ہیں یعنی، "سیاہ فام کی زندگی اہمیت رکھتی ہے اور انصاف کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا"۔

اس سے پیشتر اتوار کو برطانیہ، برازیل، کینیڈا اور دیگر کئی ملکوں میں بھی اسی طرح کا اظہار یک جہتی کیا گیا تھا۔

مرکزی لندن میں ہزاروں مظاہرین نے جمع ہو کر پولیس کے ظلم کے خلاف احتجاج کیا۔

اتوار ہی کو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ جرمنی میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہوئے۔

جن ممالک میں آمرانہ حکومت قائم ہے وہاں کے حکام نے امریکی پولیس کے اس اقدام کی مذمت کی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز ان مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاملے کی سنگینی اور پولیس کا تشدد ظاہر ہوتا ہے۔

چین کی کیمونسٹ پارٹی کے اخبار ہوشی جن کے ایڈیٹر نے لکھا کہ امریکی حکام اب اپنے دروازے پر احتجاج دیکھ سکتے ہیں۔ میں سپیکر نینسی پیلوسی اور وزیر خارجہ پومپیو سے پوچھ سکتا ہوں کہ کیا چین بھی اسی طرح ان مظاہروں کی حمایت کرے جس طرح امریکہ نے ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں کی تحسین کی تھی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی پیر کے روز کہا کہ امریکی حکام کو اپنے عوام پر تشدد بند کرنا چاہیے اور انہیں سکھ کا سانس لینے دیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف امریکہ میں بھی بعض بڑی کمپنیوں نے ان مظاہروں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔

عام طور بڑی کمپنیاں ایسے موقعوں پر خاموشی اختیار کرتی ہیں، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔ ٹیکنالوجی، بینکنگ، اور شو بز سے متعلق کمپنیوں نے ان مظاہروں کے حق میں بیان جاری کیے ہیں۔

یونیورسٹی آف برکلے کے سکول آف بزنس کی پروفیسر کیلے میک ایل ہانے کا کہنا ہے کہ مجھے بڑی حیرت ہے کہ پہلی بار اتنی بہت سی کمپنیوں نے ایسے مسئلے کے بارے میں زبان کھولی۔

انہوں نے کہا کہ شاید اس کی وجہ وہ ویڈیو ہو جس میں پولیس افسر کے بے رحمانہ فعل کو طشت از بام کیا گیا۔ آخرکار ان کمپنیوں کو چلانے والے بھی انسان ہیں۔ ان کے اداروں میں سیاہ فام، غیر سفید فام امریکی کام کرتے ہیں اور ان کے گاہکوں میں بھی یہی لوگ شامل ہیں۔

جن بڑی بڑی کمپنیوں نے پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی کے قتل اور اس کے بعد اس کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی ہے ان میں نیٹ فلکس، گوگل، مائیکرو سافٹ، سٹی بینک اور ٹارگٹ جیسے سپر سٹور شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG