رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ میں نئے قانون کے بعد پریس کی آزادی خطرے میں


ہانگ کانگ میں ایک ریستوران کے ملازم نئے قانون کے نفاذ کے بعد جمہوریت نواز بینر ہٹا رہے ہیں۔ 3 جولائی 2020

ہانگ کانگ کو جسے ایک زمانے میں ایشیا کے سب سے زیادہ فعال اور پھلتے پھولتے ہوئے میڈیا کے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا تھا، چین کی جانب سے اس ہفتے اس نیم خودمختار علاقے پر سیکیورٹی کی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد ،اس کی حالت جانکنی کی کیفیت میں مبتلا اس مریض کی سی ہے جسے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہو۔

ہانگ کانگ پر چین نے ایک نئے قانون کا اطلاق کیا ہے جس کا مقصد گزشتہ ایک سال سے جاری جمہوریت نواز مظاہروں پر قابو پانا، علیحدگی پسندی کے رجحانات کا قلع قمع کرنا، توڑ پھوڑ اور دہشت گردی کے واقعات کا سدباب کرنا اور بیرونی فورسز سے تصادم کو روکنا ہے۔ خلاف ورزی کرنے پر تین سال سے عمر قید تک کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

یہ قانون جس کی زبان غیر واضح اور مبہم ہے، مقامی باشندوں، غیر ملکیوں اور حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں رہنے والوں پر بھی نافذ العمل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون نے ڈرامائی انداز میں اظہار کی آزادیوں کو کچل دیا ہے۔

کمیٹی ٹو پر وٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈی نیٹر، سٹیون بٹلر کہتے ہیں کہ اس قانون کے مطابق حکومت جو کچھ چاہے بخوبی کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پتا چلے گا کہ اس علاقے میں حکام اس قانون کی تشریح اور اس کا اطلاق کس طرح کرتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل ہی غیر یقینی صورت حال نے آزادی اظہار پر شدید اثرات ڈال دیے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ہانگ کانگ والوں نے بہت سے ورچوئل نیٹ ورکس اور وی پی این اور ایسے سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کر لیے ہیں جن کی مدد سے وہ حکام سے اپنی ڈیجیٹل شناخت پوشیدہ رکھ سکیں۔

کچھ ویب سائٹس نے ایسے مضامین اور مواد ہٹا دیا ہے جن میں چین پر تنقید کی گئی تھی۔ ہانگ کانگ کے اکثر لوگوں نے سوشل پلیٹ فارمز سے اپنے پروفائلز ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔

مرکزی میڈیا سینٹرز نے مظاہروں کی کوریج کے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے، اور وہ ایسے نعروں کو دکھانے سے اجتناب کر رہے ہیں جن پر پکڑ کا شبہ ہو سکتا ہے۔ اکثر صحافی حساس موضوعات سے صرف نظر کر رہے ہیں۔

ہانگ کانگ کی ایک سابق قانون دان اور جمہوریت نواز سرگرم کارکن ایملی لیو کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بہت تیزی سے ہوا ہے اور یہ بہت خوفناک ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے ہانگ کانگ میں قائم مراکز نے بتایا ہے کہ سول سوسائٹی کے گروپس اور جمہوریت نواز کارکنوں نے اس وقت تک اپنے بیان اور تبصرے ریکارڈ کرانے بند کر دیے ہیں جب تک انہیں یہ معلوم نہیں ہو جاتا کہ نئے قانون کا اطلاق کس طرح سے کیا جائے گا۔

قانون میں کہا گیا ہے نفرت بھڑکانے میں ملوث افراد اور غیر ملکی تنظیموں کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جب کہ ابھی تک عہدے داروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ نفرت بھڑکانے سے ان کی کیا مراد ہے۔

ہانگ کانگ میں مقیم ایک برطانوی فری لانس صحافی ٹومی واکر کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک مضمون لکھتا ہے، کیا اسے بھی نفرت بھڑکانے کے طور پر شمار کیا جائے گا۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے۔ ہر کوئی پریشان ہے۔ ہانگ کانگ میں غیر ملکی صحافی اب کوئی متبادل ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ اب وہاں رپورٹنگ ناممکن ہو گئی ہے۔

دوسری جانب چین کے عہدے دار کئی بار اپنا یہ موقف دوہرا چکے ہیں کہ نیا قانون اظہار اور صحافت کی آزادی پر پابندی نہیں لگاتا جس کی ہانگ کانگ کے آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔ نیا قانون صرف غیر قانونی توڑ پھوڑ، علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت کو روکنے کے لیے ہے۔

لیکن جب ہانگ کانگ کے لیے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے رکن ٹام لیو چونگ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں اس شہر میں لوگوں یا کاروباروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی صحافی کو کسی حساس موضوع پر رپورٹنگ کرنے پر سزا ہو سکتی ہے تو ان کا جواب تھا کہ یہ بات آپ کسی پروفیشنل وکیل سے پوچھیں۔

ہانگ کانگ میں پریس کی آزادی کئی برسوں سے تنزلی کی طرف گامزن ہے۔ سن 2002 میں پریس فریڈم انڈکس میں ہانگ کانگ کا نمبر 18 واں تھا جو اس سال گھٹ کر 80 ویں درجے پر آ گیا ہے۔ جب کہ اسی انڈکس میں 180 ملکوں کی فہرست میں چین کا نمبر 177 واں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG