رسائی کے لنکس

پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ملزم اویس اور اس کے ماموں بنارس نے گھر میں گھس کر دونوں بہنوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں، وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں‘‘

سمیرہ لطیف

صوبہٴ پنجاب کے قصبے ڈنگہ کے نواحی گاؤں، نور جمال میں ایک شخص اویس علی نے مبینہ ’’غیرت کے نام پر‘‘ اپنی دو بہنوں کو قتل کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، مقتولہ عظمیٰ کی عمر 28 جب کہ سعدیہ کی 26 برس تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اویس اور اس کے ماموں بنارس نے گھر میں گھس کر دونوں بہنوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں، وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں۔

قتل کے بعد دونوں ملزم جائے واردات سے فرار ہوگئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کو اپنی بہنوں کے کردار پر شبہ تھا اور اس نے غیرت کی وجہ سے انہیں قتل کیا ہے۔ مقتولہ عظمیٰ شادی شدہ تھی۔

لیکن، اس نے تقریباً ایک ماہ قبل طلاق لے لی تھی، جس سے اس کے گھر والے ناخوش تھے۔

پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملزم کو اپنی چھوٹی بہن سعدیہ کی سرگرمیوں پر بھی اعتراض تھا۔ پولیس نے دوہرے قتل کی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ تاہم، ابھی تک وہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

پاکستان میں آئے دن، غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے، ریٹائرڈ جسٹس ناصرہ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ’’ایسے واقعات کو غیرت قرار دینا غلط ہے۔ یہ تو کھلی بے غیرتی ہے کہ لوگ کسی بھی وجہ سے قتل کرکے اسے بعد میں غیرت کا نام دے دیتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’’آبادی میں اضافے کی وجہ سے بے روزگاری اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کے سبب لوگ ذہنی دباؤ میں آکر ایسے جرائم کر گزرتے ہیں اور پھر سزا سے بچنے کے لیے غیرت کا بہانہ بنا دیتے ہیں‘‘۔

اگرچہ اس سلسلے میں قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ لیکن، ابھی تک اس گھناؤنے جرم کی روک تھام ممکن نہیں ہوسکی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG