رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے پر بحث شروع


صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے امریکی ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز اجلاس کا آغاز ہو گیا۔ صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ ان الزامات پر رائے دہی کے عمل کے نتیجے میں صدر کے عہدہ صدارت پر ایک دھبہ لگ جائے گا۔

اسپیکر نینسی پیلوسی نے ڈیموکریٹ ارکان سے کہا ہے کہ وہ ایوان کے چیمبر میں اکٹھے ہوں۔ بقول ان کے، ’’ہمیں آئین نے اتنے اختیارات دیے ہیں جن کے استعمال سے آئین کی حرمت کے تقاضے پورے کیے جا سکیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے پاس ارکان کی اتنی تعداد موجود ہے جن کی مدد سے وہ ٹرمپ کا مواخذہ کر سکتے ہیں؛ اور یوں، وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے والے امریکہ کے تیسرے صدر بن جائیں گے۔

رائے دہی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کو بھیجے گئے مراسلے میں پیلوسی نے کہا ہے کہ ’’ہماری تاریخ کے اس انتہائی اہم مرحلے پر ہمیں اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور داخلی دشمنوں سے دستور کی حرمت کا دفاع کرنا ہے‘‘۔

اجلاس کے شروع ہوتے ہی ریپبلیکن پارٹی کے ارکان نے اجلاس کی کارروائی رکوانے کی کوشش کی۔

ایریزونا سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکن رکن اینڈی بگز نے کہا کہ ’’ہمیں مواخذے میں وقت ضائع کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ میں تحریک پیش کرتا ہوں کہ ایوان کا اجلاس ملتوی کیا جائے۔ وہ ایوان نمائندگان میں ’فریڈم کاکس‘ کے چیئرمین ہیں۔

انھوں نے ’رول کال‘ کا مطالبہ کیا، جو اجلاس کی جاری کارروائی کے دوران ضابطے کی کئی باریکیوں کی نشاندہی کرنے کا ایک تاخیری حربہ ہے۔ رول کال کا مطالبہ پارٹی کے ارکان کی حاضری ظاہر کر کے مسترد کیا گیا۔

اس کے بعد ریپبلیکن ارکان نے ڈیموکریٹک کمیٹی کے قائدین کے خلاف ایک مذمتی تحریک پیش کرتے ہوئے اس پر رائے دہی کا مطالبہ کیا۔ اس کا مقصد سماعت کی کارروائی کے دوران ڈیموکریٹ ارکان کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا جس کے نتیجے میں بدھ کو ووٹنگ کرائی گئی۔

اس سے قبل بدھ کو ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ میں اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا، ’’کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آج بائیں بازو کے قدامت پسند میرا مواخذہ کر پائیں گے۔ بیکار ڈیموکریٹس۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا!۔ بہت ہی بھیانک‘‘۔

بدھ ہی کے روز صدر انتخابی مہم کے اعتبار سے انتہائی اہم ریاست مشی گن روانہ ہوں گے جہاں وہ انتخابی ریلی کی قیادت کریں گے۔ منگل کو صدر نے پیلوسی کو ایک جوشیلا مراسلہ روانہ کیا تھا جس میں اپنے خلاف ’’قابل ملامت مہم جوئی‘‘ کی مذمت کی تھی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات تسلیم کی کہ برآمد ہونے والے نتیجے کو روکنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’وقت آئے گا جب لوگ اس معاملے پر نگاہ ڈالیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ معاملے کی نزاکت کا ادراک کیا جائے اور اس سے سبق سیکھا جائے تاکہ کوئی دوسرا صدر کبھی اس سے دوچار نہ ہو‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG