رسائی کے لنکس

امریکہ: ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کا پولیس اصلاحات کا بل منظور


فائل فوٹو

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود پولیس اصلاحات سے متعلق ڈیموکریٹس کا پیش کردہ بل منظوری کے بعد سینیٹ کو بھجوا دیا ہے۔

ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں جمعرات کو پولیس اصلاحات سے متعلق بل پر ہونے والی رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 236 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ 181 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین ارکان نے ڈیموکریٹس کے اس بل کے حق میں ووٹ دیے۔

ڈیموکریٹس کے پولیس اصلاحات بل میں پولیس افسروں کی جانب سے ملزم کی گردن پر دباؤ ڈالنے کی تیکنیک 'چوک ہولڈ' کو یکسر ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔

اس بل میں پولیس افسروں کو مقدمات کے خلاف قانونی طور پر حاصل استثنٰی کو محدود کرنے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا ووٹنگ سے پہلے کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس پولیس اہلکاروں کی جانب سے ملزم کی گردن پر دباؤ ڈالنے کی تیکنیک 'چوک ہولڈ' پر پابندی لگا سکتے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان نے پولیس اصلاحات کا بل کثرت رائے سے منظور کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
ایوانِ نمائندگان نے پولیس اصلاحات کا بل کثرت رائے سے منظور کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

سینیٹ میں ری پبلکن کی اکثریت کے سبب توقع کی جا رہی ہے کہ ایوانِ نمائندگان سے منظور ہونے والا بل سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس سے بھی بل کو ویٹو کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔

ایوانِ نمائندگان نے پولیس اصلاحات کا یہ بل ایسے موقع پر منظور کیا ہے جب پولیس کی تحویل میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے اور پولیس اصلاحات کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔

حکمران جماعت ری پبلکن اور حزبِ اختلاف کے درمیان پولیس میں نسلی امتیاز سے متعلق اصلاحات پر ڈیڈ لاک موجود ہے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والے رائے عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیموکریٹس نے مذکورہ بل کو 'جارج فلائیڈ جسٹس ان پولیسنگ ایکٹ' کا نام دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ عوامی دباؤ ری پبلکنز کے بل پر اعتراضات کو مسترد کر دے گا۔

ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان پولیس اصلاحات بل کی ایک شق پر اختلاف موجود ہے۔ جس کے مطابق بدعنوانی کے شکار افراد کو عدالت میں قانونی چارہ جوئی کی اجازت ہو گی۔

سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار رکھنے والے ادارے ‘پوسٹ’ کے مطابق سن 2020 میں سات غیر مسلح سیاہ فام شہری پولیس حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)
سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار رکھنے والے ادارے ‘پوسٹ’ کے مطابق سن 2020 میں سات غیر مسلح سیاہ فام شہری پولیس حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار رکھنے والے ادارے 'پوسٹ' کے مطابق رواں برس اب تک سات غیر مسلح سیاہ فام شہری پولیس حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس یہ تعداد 14 تھی۔

تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار نا مکمل ہیں۔

ایوانِ نمائندگان میں پچاس سے زائد سیاہ فام قانون سازوں کی نمائندگی کرنے والی کیرن باس کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے مجوزہ بل سے سیاہ فام افراد کے قتل کو روکنے میں مدد ملے گی۔ جس کا مطالبہ سیاہ فام قانون سازوں کی طرف سے 1970 کے اوائل سے کیا جا رہا ہے۔

امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن اسکوٹ کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے ری پبلکنز کا پیش کردہ بل اس لیے رد کیا گیا تاکہ رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس مذکورہ موضوع پر اپنی فتح منوا سکیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' پر اسکوٹ کا کہنا تھا کہ مذکورہ بل سے سیاہ فام افراد مزید پولیس تشدد کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے بقول ڈیموکریٹس کے ہاتھوں پر سیاہ فام افراد کا خون ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG