رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ نے پولیس اصلاحات کے حکم نامے پر دستخط کر دیے


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں پولیس اصلاحات کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں اصلاحات کے مسودے پر دستخط کیے۔

امریکی صدر کے اس اصلاحاتی حکم نامے کے تحت پولیس افسران کو طاقت کے استعمال کے معیار اور کشیدہ صورتِ حال کو طاقت استعمال کیے بغیر سنبھالنے کی تربیت دی جائے گی۔

پولیس اصلاحات کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے سماجی رضاکاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا نظام بھی ترتیب دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصلاحاتی مسودے پر دستخط سے پہلے وائٹ ہاؤس میں اس حکم نامے سے متعلق گفتگو بھی کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جرائم کم کرنا اور پولیس کی استعداد میں اضافہ کرنا دو متضاد باتیں نہیں۔ البتہ محفوظ معاشرے کے لیے محفوظ پولیسنگ ضروری ہے۔

صدر نے کہا کہ یہ حکم نامہ ملک بھر میں محکمۂ پولیس کو سب سے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اپنانے کی طرف راغب کرے گا تاکہ وہ معاشرے کی خدمت کر سکیں۔

اُن کے بقول یہ معیار روئے زمین پر سب سے مضبوط اور بلند ہوگا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے گا جس میں پولیس اور سماجی رضاکار ساتھ مل کر کام کریں گے۔ بے گھر افراد، ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں اور اسی طرح کے دیگر پیچیدہ معاملات میں پولیس افسران کے ساتھ سماجی رضاکاروں کو بھی موقع پر بھیجا جائے گا تاکہ وہ صورتِ حال کو سنبھالنے میں پولیس افسران کی مدد کر سکیں۔

البتہ صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے دوران پولیس کے نسل پرستانہ رویے پر کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی شہری قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد سے پولیس کے نسل پرستانہ رویے پر بحث جاری ہے۔ امریکہ میں جاری مظاہروں میں یہی مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے اور پولیس میں معنی خیز اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ کے پولیس اصلاحات کے اس حکم نامے کو کم زور قرار دیا ہے۔

نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ پولیس کے ظالمانہ رویے اور نسل پرستی کی بنیاد پر ناانصافی سے سیکڑوں سیاہ فام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ صدر کے متعارف کرائے گئے اصلاحاتی پیکج میں شامل نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ میں پولیس اصلاحات کے معاملے پر ڈیموکریٹس بھی قانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے اس معاملے پر امریکی کانگریس میں ایک بل بھی پیش کر رکھا ہے۔

ڈیموکریٹس نے اپنے مجوزہ 'پولیس اصلاحاتی بل' میں پولیس کی جانب سے گردن پر گھٹنا رکھنے کے تیکنیک پر پابندی اور اہلکاروں کی وردی پر نصب کیمرے کا استعمال بڑھانے کی سفارشات کی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس افسران کو حاصل استثنیٰ کم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی آسان ہو سکے۔

ڈیموکریٹس کے اس بل پر رواں ماہ امریکی کانگریس میں ووٹنگ ہو گی۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ جماعت کی اکثریت ہے۔ لہٰذا امید ہے کہ یہ بل ایوان سے بآسانی منظور ہو جائے گا۔

لیکن ڈیموکریٹس کو یہ بل سینیٹ سے منظور کرانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے جہاں صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کے ارکان اکثریت میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG