رسائی کے لنکس

logo-print

مدد مانگ کر وقت بچا لیجیے


سمارٹ فون ہمیں دو آپشنز دیتا ہے۔ اپنا وقت بچائیں یا ضائع کریں۔

ہم سب وقت بچانا چاہتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی کوشش کرتا ہے کہ اس کے ذمے جو کام ہے، وہ اس کا کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈ لے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں وقت بچانے پر لگا ہوا ہے۔ یہ آج کل کی بات نہیں ہے، پتا نہیں کب سے ہو رہا ہے۔ پتا نہیں وقت بچانے کی اس مہم کی جڑیں تاریخ میں کتنی گہری ہیں۔ لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر ہمارا بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے۔ مگر ہمارا اس طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔

بعض دفعہ ہماری انا اور خود داری وقت ضائع کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں اور آپ کے ذمے کوئی ایسا کام لگ گیا ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ آپ کسی سے اس لیے نہیں پوچھ رہے کہ دوسرے پر یہ ظاہر نہ ہو کہ آپ کو اس کا علم نہیں ہے۔ لیکن، جب آپ اسے نہیں کر پائیں گے، یا خراب کر دیں گے، دوسروں کو پھر بھی تو پتا چل جائے گا۔ لیکن، بہت سا وقت ضائع کر کے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ آپ مدد حاصل کر کے وقت بچا لیں۔

مدد لینے سے ہچکچانا نہیں چاہیے

مدد لینے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ جب آپ کو کسی چیز کی سمجھ نہ آ رہی ہو تو اس پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کسی ایسے شخص سے پوچھ لیں جو اس کے متعلق جانتا ہو۔ آپ جس شعبے میں کام کرتے ہوں، اس میں اپنا نیٹ ورک وسیع کرنا آپ کے فائدے میں ہے۔ آپ اپنے دوست بنائیں، ان سے راہنمائی لیں۔ اس سے آپ کے کام میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور آپ کا بہت سا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں مدد حاصل کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ اس نے نزدیکی اور دوری کا تصور مٹا دیا ہے۔ کوئی چاہے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، وہ آپ سے محض ایک ای میل یا ایک ٹیکسٹ کے فاصلے پر ہے۔

آپ کا علم سب سے زیادہ نہیں ہے

کسی سے پوچھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ کئی لوگ آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔ اگر آپ ان سے مدد لیتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں آپ کچھ نیا سیکھتے۔ اپنی مہارتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر آپ مدد نہیں لیتے تو آپ کا علم محدود رہتا ہے۔

دوسروں سے تعلقات قائم کریں

دوسروں سے تعلقات قائم کریں۔ بعض دفعہ کچھ وجوہ کی بنا پے آپ کسی شخص کو پسند نہیں کرتے، یا وہ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتا۔ لیکن اس سے تعلق ضرور رکھیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ تعلقات اچھے ہوں یا برے، دونوں کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر کسی کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو اس سے بھی آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ آپ کو اپنی خامیوں کا پتا اسی شخص سے چلے گا جس سے آپ کے تعلقات اچھے نہیں ہوں گے۔​

آپ جہاں کام کریں وہاں لوگوں سے ورکنگ ریلیشن شپ قائم کریں، چاہے آپ انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔ ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ضرور بنائیں۔ اس سے آپ اپنا بہت سا وقت ضائع ہونے سے بچا لیں گے۔

ایک ناکامی ہزار کامیابیوں کی کنجی ہے

اکثر لوگ اپنی غلطیوں پر پشیمان ہوتے ہیں اور ناکامیوں پر انہیں دکھ ہوتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اگر آپ سے کوئی غلطی سر زد ہوتی ہے یا آپ کو کسی موقع پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس پر دکھ کا احساس آپ کا حق ہے۔ لیکن اس دکھ کو خود پر طاری نہ ہونے دیں۔ آپ اس پر ٹھنڈے دل سے سوچیں، آپ کو پتا چل جائے گا کہ غلطی کی وجہ اور ناکامی کا سبب کیا تھا۔ ایک ناکامی آپ کے لیے کامیابیوں کے ان گنت دروازے کھول دے گی اور مستقبل میں آپ کا بہت سا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔

دوسروں کے متعلق بلاوجہ سوچنا بند کریں

آپ کو اپنے اردگرد کئی لوگ ایسے ملیں گے جو ہر وقت دوسرے کے بارے میں پریشان ہوتے رہتے ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کہا یا یہ کہ ایسا کیوں کیا۔ ہر شخص کی اپنی زندگی ہے، وہ اپنے عمل کا خود جواب دہ ہے۔ آپ کو کسی کے متعلق سوچ سوچ کر اپنا وقت ضائع کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اور ہاں آپ ایسی باتوں اور ایسے کاموں سے گریز کریں جو دوسروں کو ناگوار گزرے یا انہیں برہم کر دے۔ اس سے ہاتھ کھینچ کر آپ اپنا بہت سا وقت بچا سکتے ہیں جس کا استعمال آپ کسی بہتر جگہ پر کر سکتے ہیں۔

حسد کی خوراک آپ کا وقت ہے

دوسروں سے حسد کرنا ایک عام سی عادت ہے۔ آپ کو اپنے اردگرد بہت سے لوگ ملیں گے جو کسی نہ کسی وجہ سے دوسروں سے حسد کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی اس عادت کا شکار ہیں تو چنداں حیرت کی بات نہیں۔ لیکن آپ اس سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ جب آپ کے دل میں کسی کے متعلق حاسدانہ خیالات پیدا ہوں تو خود سے یہ سوال کریں کہ میں یہ کیوں کر رہا ہوں۔ اس سے مجھے کیا فائدہ ہو گا۔ بار بار یہ عمل دوہرانے سے آپ کی یہ عادت جاتی رہے گی اور پھر آپ سوچیں گے کہ میں کتنی بے کار چیز پر اپنا وقت ضائع کرتا رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG