رسائی کے لنکس

پاکستان میں مقیم 285 ترک شہریوں کی جبری وطن واپسی کا خطرہ


بیان کے مطابق پاک ترک اسکولوں سے وابستہ 285 ترک اساتذہ اور ان کے اہلِ خانہ نومبر 2016ء سے جبری وطن واپسی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

عالمی وفاق برائے انسانی حقوق (ایف آئی ڈی ایچ) اور اس کی رکن تنظیم پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے حکومتِ پاکستان سے پاکستان میں مقیم 285 ترک شہریوں کو جبری وطن واپسی، غیر قانونی حراست اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک بیان میں ’ایف آئی ڈی ایچ‘ کے صدر دمیترس کرسٹو پالس نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے ایک ترک خاندان کو ملک بدر کرکے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں مقیم دیگر 285 افراد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

بیان کے مطابق پاک ترک اسکولوں سے وابستہ 285 ترک شہری اور ان کے اہلِ خانہ نومبر 2016ء سے جبری وطن واپسی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ان افراد کو ترکی بھیجا گیا تو وہاں پہنچتے ہی ان کی گرفتاری کا قوی امکان ہے۔

پاکستان میں پاک۔ترک اسکول نیٹ ورک کے سابق اعلیٰ عہدیدار میسوت کچماس کو 27 ستمبر 2017ء کو اُن کی اہلیہ اور دو بیٹیوں سمیت مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا تھا۔

بعد میں یہ خبر آئی تھی کہ میسوت کچماس کے خاندان کو گرفتار کرکے ترک پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا گیا جو انہیں اپنے ہمراہ ترکی لے گئے ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی طرف سے اس معاملے پر کسی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ سرکاری ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ معاملہ اُن کے کمیشن کے سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاملہ کمیشن میں آیا تو اس پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان حکومت نے ترک اساتذہ کو 20 نومبر 2016ء تک ملک چھوڑنے کا جو حکم جاری کیا تھا اسے کئی پاکستانی عدالتوں نے معطل کر دیا تھا۔

مزید برآں یو این ایچ سی آر کے جاری کردہ ’پناہ گزین سرٹیفکیٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ ترک شہریوں کو کسی ایسے ملک نہ بھیجا جائے جہاں اُنہیں خدشہ ہے کہ اُن کی زندگی اور آزادی خطرے سے دوچار ہو گی۔

ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن مہدی حسن کہتے ہیں کہ ترک خاندانوں کو زبردستی ترکی واپس بھیج کر پاکستان نے اپنے عالمی فرائض سے روگردانی کی ہے اور حکومت کے اس اقدام کا مقصد ترک حکومت کو خوش کرنا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ ترک جوڑے کو عدالتی حکم کے باوجود ملک بدر کرنے پر وفاقی حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر رکھی ہے۔

عدالت عالیہ نے حکم دے رکھا تھا کہ پاک ترک اسکول اور کالجز سے وابستہ ترک باشندوں کو ملک بدر نہ کیا جائے۔

گزشتہ سال جولائی میں ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردوان کی حکومت نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اپنے ہاں واقع پاک ترک اسکولوں کو بند کر دے کیونکہ اس کے بقول یہ بغاوت کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے والے جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی حامی تنظیم سے وابستہ ہیں۔

تاہم اس اسکول کی انتظامیہ گولن سے وابستگی کے دعوؤں کو مسترد کرتی آئی ہے جب کہ فتح اللہ گولن بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اُن کا ترکی میں ہونے والی بغاوت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG