رسائی کے لنکس

ترک جوڑے کی ملک بدری پر توہین عدالت کی درخواست منظور


ترک جوڑا اپنی بیٹوں کے ہمراہ (فائل فوٹو)

لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ لاپتا ہونے والے ایک ترک جوڑے کو عدالتی حکم کے باوجود ملک بدر کرنے پر وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

عدالت عالیہ نے حکم دے رکھا تھا کہ پاک ترک اسکول اور کالجز سے وابستہ ترک باشندوں کو ملک بدر نہ کیا جائے۔

لیکن گزشتہ ماہ لاہور کے علاقے واپڈا ٹاؤن سے ترک شہری میسوت کاجماس اور ان کی اہلیہ دو بیٹیوں سمیت اچانک لاپتا ہو گئے تھے اور حال ہی میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ انھیں ترک پولیس کے مبینہ طور پر اسلام آباد آنے والے خصوصی اہلکاروں کے حوالے کر کے پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔

اس جوڑے کی بیٹیوں کے حوالے سے یہ خبریں ذرائع ابلاغ میں گردش کرتی رہی ہیں۔

منگل کو درخواست گزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا عدالت میں استدلال تھا کہ یہ ملک بدری عدالتی حکم کے خلاف ہے لہذا یہ توہین عدالت کا معاملہ بنتا ہے۔

اس پر عدالت عالیہ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹسز جاری کر دیے جب کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ترک جوڑے کی اسلام آباد سے ترکی منتقلی کا ریکارڈ پیش کرنے کا بھی کہا ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردوان کی حکومت نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اپنے ہاں واقع پاک ترک اسکولز کو بند کر دے کیونکہ اس کے بقول یہ بغاوت کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے والے جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی حامی تنظیم سے وابستہ ہیں۔

تاہم اس اسکول کی انتظامیہ گولن سے وابستگی کے دعوؤں کو مسترد کرتی آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG