رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان واقعے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ


(فائل فوٹو)

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستان کی فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان جھڑپ کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال سے پی ٹی ایم کے تین کارکن ہلاک ہوئے جس کے بعد پی ٹی ایم کے کارکنوں اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔

اتوار کو شمالی وزیرستان پر فوج کی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم اور سکیورٹی اہلکاروں کے مابین جھڑپ میں کم سے کم تین کارکن ہلاک اور دس زخمی ہوئے تھے جب کہ فوج کا کہنا تھا کہ اس جھڑپ میں چار فوجی اہلکار زخمی اور ایک ہلاک ہوا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج نے رات گئے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پشتون تحفظ تحریک کے مابین چیک پوسٹ پر ہونے والے تصادم کے بعد علاقے سے مزید پانچ لاشییں برآمد ہوئی ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

فوج کے بیان میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان ہلاک شدگان کا تعلق اتوار کو پیش آنے والے واقعے سے ہے یا نہیں۔

پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ

شمالی وزیرستان میں جھڑپ کے بعد قبائلی علاقے سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو آٹھ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے خلاف فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال سے پی ٹی ایم کے کارکنوں اور فوج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے بقول قبائلی علاقوں کی عوام اور ریاست کے درمیان مستقل کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور یہ ملکی مفاد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ایچ آر سی پی نے علی وزیر سمیت دیگر کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حقائق سامنے لانے کے لیے پارلیمانی کمیشن کا قیام ضروری ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی علاقوں کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور اُن کے خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو حقائق جاننے کے لیے قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی ملنی چاہیئے۔

دوسری جانب پی ٹی ایم نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہلاکتوں کے خلاف پشاور اور بلوچستان کے کچھ شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

پی ٹی ایم پر پابندی کے لیے درخواست

پی ٹی ایم پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم سے وابستہ عناصر ملک اور فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے اور ریاست کے مفاد کی خاطر اس پر پابندی لگائی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج عامر فاروق نے درخواست کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ملک کے خلاف پراپیگنڈہ کر رہی ہے جسے روکنا ضروری ہے۔

عدالت نے محسن داوڑ، علی وزیر، وزارتِ داخلہ اور وفاق کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکام کا دورہ میران شاہ

شمالی وزیرستان واقعے کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے میران شاہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں اتوار کو پیش آنے والے واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے بھی شمالی وزیرستان کا دورہ کیا اور مقامی حکام سے ملاقات کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔

علاقے میں صورتحال تاحال کشیدہ

نامہ نگار شمیم شاہد کے مطابق پشتون تحفظ تحریک نے دعوٰی کیا ہے کہ فوج کے ساتھ جھڑپ میں ان کے 10 کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔

تحصیل دتہ خیل کے علاقے میں تاحال کرفیو نافذ ہے جبکہ شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

پیر کے روز عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے وفد کو سیکورٹی حکام نے شمالی وزیرستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ان رہنماوؑں کو سیدگی چیک پوسٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔

خیبرپختونخوا بار کونسل کی اپیل پر واقعے کے خلاف وکلا برادری نے مکمل ہڑتال کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ وکلا رہنماوؑں نے پی ٹی ایم کارکنوں کی ہلاکت کی مذمت بھی کی ہے۔

پی ٹی ایم کے کارکنوں نے وزیرستان واقعے پر پشاور کے علاقے حیات آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرہ بازی کی۔

صوبے کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے واقعے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی سمیت دیگر نے سارے معاملے میں سیکورٹی فورسز کے موقف کی تائید کی ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث

فوج اور پی ٹی ایم کی مابین چھڑپ کے بعد ٹوئٹر پر پی ٹی ایم اور فوج کے بارے میں ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان کی کڑی ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کو دی گئی مہلت اب ختم ہو گئی ہے

منظور پشتین کا کہنا ہے کہ وہ اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، پی ٹی ایم اپنی پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کی حمایت کرنے والوں کا خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند عناصر اپنے بیرونی ایجنڈے کے تحت انہیں ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی دہائیوں پر محیط قربانیوں اور جدوجہد سے حاصل ہونے والے فوائد کو زائل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG