رسائی کے لنکس

logo-print

زیر حراست افرد کے خلاف تشدد کے مبینہ واقعات کے تدارک کے لیے مؤثر اقدمات کا مطالبہ


انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)' نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کنوینشن پر پوری طرح عمل درآمد کرتے ہوئے ہوئے زیر حراست افراد کے خلاف مبینہ طور پر روا رکھے جانے والے تشدد کے مبینہ واقعات کو روکنے کے لیے ملک کے فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات وضع کرے۔

’ایچ آر سی پی‘ نے بات اس دن کہی جب منگل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے شکار افراد کی حمایت کا عالمی دن منایا گیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ حکومت نے ابھی تک اقوام متحدہ کی تشدد کے خلاف کنویشن پر پوری طرح عمل نہیں کیا ہے۔

تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ تشدد کے خاتمے کےخلاف ہر سطح پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے اور یہ تاثر کسی طور درست نہیں ہے کہ اقبال جرم کروانے اور مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے تشدد کا طریقہ مدد گار ہو سکتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زیر حراست افراد کے خلاف مبینہ طور پر روا رکھے جانے تشدد کی روک تھام کے لیے قانون ناٖفذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکاروں کی جدید خطوط پر مناسب تربیت ضروری ہے۔

زیر حراست افرد کے خلاف تشدد کے واقعات پاکستان میں تواتر کے ساتھ منظر عام پر آتے رہتے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک تفتیش کی بات ہے جس کی تدار کے کے حکومت کو موثر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور ماہر قانون کامران عارف نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور جب تک تشدد کو ہمارے فوجداری نظام انصاف سے مکمل طور ختم نہ کیا جائے، اس وقت تک صاف و شفاف اور مناسب تفتیش نہیں ہو سکتی اور اگر مناسب تفتیش نہیں ہو سکتی ہے تو انصاف کے مطابق ٹرائل ممکن نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ زیر حراست افراد کے خلاف رکھنے جانے والے مبینہ تشدد کی تعریف اقوام متحدہ کی کنویشن کے تحت وضع کرتے ہوئے اسے قانون کے مطابقجرمقرار دینے سے تشدد کے واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان حکومت کی کسی عہدیدار کی طرف سے ہیومن رائٹس کمیشن کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے ہیں آیا ہے۔ تاہم، قبل ازیں حکومت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ زیر حراست افراد کے خلاف تشدد کے مبینہ واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت نے پولیس اور تفتیش کے طریقہ کار میں اصلاحات کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

تشدد کے شکار افراد کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد نیشنل پریش کلب کے باہر انسانی حقوق اور سول سوسائیٹی کی کارکنوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان میں زیر حراست افراد کے خلاف رونما ہونے والے تشدد کے واقعات سے متعلق کوئی مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بعض غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق زیر حراست افراد میں سے 50 فیصد کو تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG