رسائی کے لنکس

logo-print

کردوں کے خلاف آپریشن، ترکی سکیورٹی فورسز کو لگام دے: ہیومن رائٹس


ہیومن رائٹس واچ  کا کہنا ہے کہ محدود تحقیقات کے دوران 15 افراد کی ہلاکت ہوئی، جب کہ مقامی گروپ نے ان ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی ہے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم، ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ مہینوں میں پولیس آپریشن اور مسلح افراد کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد، ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز اور تحقیقاتی اداروں کو کنڑول میں رکھے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ محدود تحقیقات کے دوران 15 افراد کی ہلاکت ہوئی جب کہ مقامی گروپ نے ان ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی ہے۔

ترک افواج نے جنوب مشرقی ترکی میں اس سال جولائی سے کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف جارحانہ مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں دو سال سے جاری جنگ بندی ختم ہوگئی تھی اور ترک صدر طیب اردوان نے اس سال نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ تمام مسلح افراد کی شکست تک یہ مہم جاری رکھیں گے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ریاست نے کرد علاقوں پر کرفیو نافذ کررکھا ہے اور لوگوں کو پانی، بجلی اور خوراک جیسی ضروریات سے محروم کردیا ہے۔

ایچ آر ڈبلو کی سینئر محقیق، ایما سنکلئر ویب نے کہا ہے کہ ترک حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی سیکورٹی فورسز کو لگام دے۔ فوری طور پر فورسز کا بے جا استعمال بند کرے اور آپریشن کے دوران ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی تحقیقات کرائی جائے۔

ایما سنکلیئر کا کہنا تھا کہ خطے میں کرد آبادی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے نظرانداز کرنے یا چھپانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کرد مسلح افراد کے خلاف پولیس یا فوجی آپریشن کیا جاتا ہے اس کے دوران کسی حدود و قیود کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔

ہیومن رائٹس واچ نے کرد مسلح گروپ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ناکہ بندی کے لئے خندقیں کھود کر دھماکہ خیز مواد چھپانے کا سلسلہ بند کرے، کیونکہ ان اقدامات سے زخمیوں تک طبی امداد پہنچانے میں دشواری ہوتی ہے۔

ایچ آر ڈبلو کا کہنا تھا کہ ترکی کو مسلح افراد سے اپنی دفاع کا حق حاصل ہے۔ تاہم، پولیس اور فوج کو یقینی بنانا چاہئے کہ آپریشن کے علاقے میں رہنے والے لوگ متاثر نہ ہوں۔

ترکی، امریکہ، یورپی یونین تمام ’پی کے کے‘ کو دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہیں۔ ترکی اور ’پی کے کے‘ کے درمیان 1984ء سے جاری اس تنازعہ میں اب تک 40 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG