رسائی کے لنکس

logo-print

حدیبیہ پیپرز ملز پر نیب کی نظرثانی اپیل خارج


حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں نواز شریف اور شہباز شریف پر سوا ارب روپے کی منی لانڈرنگ کرنے کا الزام ہے، فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق نظرثانی اپیل خارج کردی ہے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل 3 رکنی خصوصی بینچ نے حدیبیہ پیپرز ملز نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔

جسٹس مشیر عالم نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی کریں جس میں کیس دوبارہ کھولنے کی اپیل مسترد کی گئی تھی۔

نیب پراسیکیوٹر سپریم کورٹ کے فیصلے میں غلطی بتانے میں ناکام رہے جس پر سپریم کورٹ نے نیب کی نظرثانی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ہمارے فیصلے میں کوئی غلطی ہوتی تو میں پہلا شخص ہوں گا جو درستگی کرے گا۔ نیب نے 1229 دن بعد اپیل دائر کی۔ زائد المیعاد ہونے پر اپیل خارج کی گئی۔ نیب والے عدالت سے باہر جاکر تقریریں کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اس بات کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کا کوئی افسر تقریر نہیں کرتا۔ اس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ نیب کے بعد کوئی وزیر آ کر تقریریں شروع کر دیتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ کیا نیب کے کہنے پر کوئی کرپٹ اور بے ایمان ہو جائے گا؟ پہلے ثابت تو کریں کہ کوئی جرم ہوا ہے۔ آپ کے کیس کا پورا زور اسحاق ڈار کا بیان ہے۔ بیان بھی مان لیں تو کیا ہو گا۔ بیان کے تناظر میں نیب نے چیزوں کو ثابت کرنا ہے۔ دفعہ 164 کا بیان ضابطہ فوجداری کے ساتھ کھیل ہے۔ خدا کا واسطہ ہے ضابطہ فوجداری کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں۔ اسحاق ڈار کا بیان کسی اور کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ریفرنس نیب کی درخواست پر تاحکم ثانی ملتوی ہوا۔ 2008 میں ریفرنس بحال کروایا۔ پھر دوسری بار ریفرنس سرد خانے کی نذر کروایا۔ ایک بندے کو کب تک ایسے گھسیٹیں گے۔ 18 سال سے سر پر تلوار لٹک رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ نیب کہتا ہے 1992 میں جرم ہوا۔ سپریم کورٹ 1992 کا جرم سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ نیب نے ملزمان کے فرار میں مدد پر مشرف کے خلاف کیس کیوں نہیں کیا اور اپنی ساکھ کیوں خراب کر رہا ہے؟ کیا نیب ہر ملزم کو جلاوطن کر سکتا ہے؟ نیب کسی اور کی جنگ لڑ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کو وائٹ واش کر دیا جائے۔ نیب نے فیصلے سے چند پیراگراف حذف کرنے کا کیوں کہا؟ مشرف کے ٹیک اوور والی بات سے نیب کو کیا تکلیف ہے؟ بعید ہے نیب مشرف کا وکیل نہیں ہے۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ اس وقت فوجی حکومت تھی لوگوں کو اپنی زندگیوں کے خطرات تھے۔ ایک جنرل حکومت، دوسرا نیب کا سربراہ تھا۔ ملکی تاریخ پڑھنے میں نیب کو کیا مسئلہ ہے؟ کیا عدالت نے مشرف کے حوالے سے غلط لکھا ہے؟ الفاظ حذف کروانے کی استدعا مشرف نے نہیں کی۔

نیب پراسیکوٹر نے پاناما کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ پاناما کا یہاں تذکرہ نہ کریں۔ سمجھ نہیں آتی نیب کس کا کیس لڑ رہا ہے۔ کیا نیب آج آزاد ادارہ ہے یا نہیں؟ نیب آزاد نہیں تو لکھ کر دے دے۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نواز شریف اور شہباز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں اپنی ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کے ذریعے 1.24 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔

مقدمے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعترافی بیان دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس فیصلے میں نیب کو حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔ نیب نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تاہم جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بنچ نے نیب کی اپیل مسترد کر دی۔

اس فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جسے اب عدالت نے ایک بار پھر مسترد کر دیا جس کے بعد حدیبیہ پیپر ملز کیس ختم ہو گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG