رسائی کے لنکس

حدیبیہ ریفرنس دوبارہ کھولنے کی نیب کی درخواست مسترد


سابق صدر پرویر مشرف کے دور میں قائم کیے جانے والے اس مقدمے میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے اعترافی بیان دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل مسترد کردی۔

ریفرنس دوبارہ کھولنے کی درخواست نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔

جمعے کو سنائے جانے والے مختصر فیصلے میں بینچ نے قرار دیا کہ نیب کی اپیل زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے خارج کی جاتی ہے۔ درخواست مسترد کرنے سے متعلق تفصیلی فیصلہ بعد میں دیا جائے گا۔

فیصلہ بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے پڑھ کر سنایا جب کہ اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بھی موجود تھے۔ بینچ نے نیب کی درخواست مسترد کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا۔

اس سے قبل جمعے کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے دلائل پیش کیے جانے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب کے وکیل عمران الحق سے استفسار کیا کہ کیا کیس دوبارہ کھولنا دوبارہ چلانے میں نہیں آئے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آپ دوبارہ اپنے ملزمان کے خلاف تحقیقات مانگ رہے ہیں جبکہ کیس کے میرٹس ہم دیکھ چکے ہیں۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس میں شریف خاندان پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں اپنی ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کے ذریعے 1.24 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔

سابق صدر پرویر مشرف کے دور میں قائم کیے جانے والے اس مقدمے میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے اعترافی بیان دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

دو ہزرا چودہ میں لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں نیب کی تحقیقات کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد احتساب عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کردیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کی سماعت کے دوران حدیبیہ ریفرنس کا معاملہ دوبارہ سامنے آیا تھا اور کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا کہا تھا۔

تیرہ نومبر کو حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی اپیل کی سماعت سے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کیس کی سماعت کے لیے تشکیل کیے گئے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی تھی۔

جمعے کو دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پاناما آبزرویشن کے بجائے نیب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، شریف فیملی ریفرنس ختم کرانے لاہور ہائی کورٹ گئی تو نیب جاگا۔ ریفرنس پرویز مشرف دور میں بنا اور چیئرمین نیب بھی مشرف نے ہی لگایا۔ یہ سب بہت دلچسپ ہے۔ ایسے مقدمات میں سیاسی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔

جسٹس مشیر عالم نے نیب کے وکیل سے کہا کہ اسحاق ڈار کو تو آپ نے فریق ہی نہیں بنایا۔ اسحاق ڈار کے بیان کو نکال دیا جائے تو ان کی حیثیت ملزم کی ہو گی۔ عدالت نے نیب کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ملزم کہ پر فردِ جرم کب عائد کی گئی؟ نیب کے وکیل عمران الحق نے کہا کہ ملزم کے نہ ہونے کے باعث فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا سالوں کیس چلا اور فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

XS
SM
MD
LG