رسائی کے لنکس

logo-print

حدیبیہ پیپرز ملز کے معاملے کو الگ رکھا جائے: اٹارنی جنرل


تاہم بینچ میں شامل ججوں نے استفار کیا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کیس، 1.2 ارب روپے کی بدعنوانی سے متعلق ہے اور کیا عدالت کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔

پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے انکشافات کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت بدھ کو بھی جاری رہی اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سامنے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے یہ استدعا کی پاناما لیکس اور حدییبہ پیپر ملز سے متعلق ریفررنس کو ایک دوسرے سے منسلک نا کیا جائے، کیوں کہ اُن کے بقول دونوں کی نوعیت مختلف ہے۔

تاہم بینچ میں شامل ججوں نے استفار کیا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کیس، 1.2 ارب روپے کی بدعنوانی سے متعلق ہے اور کیا عدالت کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔

واضح رہے کہ حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق مقدمے میں یہ اعتراف کیا تھا کہ اُنھوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر منی لانڈرنگ یعنی غیر قانونی طریقے سے رقم کو بیرون ملک منتقل کیا۔

تحریک انصاف کا یہ بھی موقف ہے کہ اسی پیسے کے ذریعے لندن میں شریف خاندان نے فلیٹ خریدے تھے۔

لیکن پاناما لیکس سے متعلق دائر حالیہ درخواستوں میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے پانچ رکنی بینچ کے سامنے دلائل میں کہا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اسحاق ڈار کو ایک سال تک حراست میں رکھا گیا اور اُن سے منی لانڈرنگ کے بارے میں زبردستی اعتراف کروایا گیا۔

حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں اسحاق ڈار کو بری کر دیا تھا، لیکن نیب نے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی تھی۔

ایک روز قبل یعنی منگل کو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے سربراہ چوہدری قمر زمان نے عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے کہا تھا کہ وہ وہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

XS
SM
MD
LG