رسائی کے لنکس

یمن میں بدترین انسانی المیے کا خطرہ، فوری امداد کی ضرورت


یمن میں جاری جنگ کے باعث تقریباً 40 لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
یمن میں جاری جنگ کے باعث تقریباً 40 لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کی کمیونیکیشن افسر برائے یمن دنیا اسلم خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا نے فوری توجہ نہ دی تو یمن میں ایک بدترین انسانی المیے کو جنم لینے سے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

یمن کو ایک ساتھ سنگین نوعیت کے کئی مسائل کا سامنا ہے جس میں جنگ، کرونا وائرس کا پھیلاؤ، ضروریات زندگی کی عدم دستیابی،اورطبی سہولتوں کا فقدان شامل ہیں۔

اس صورت حال نے بچوں، بوڑھوں،عورتوں غرض ہر شخص کی زندگی کو ایک عذاب بنا دیا ہے اور دنیا بھر سے امداد کے منتظر ہیں۔

اس بدقسمت ملک میں پہلے ہیضے کی وبا پھیلی، پھر خانہ جنگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، جو آج بھی جاری ہے۔ اس کے بعد کرونا وائرس نے آ گھیرا۔ ضروری اور بنیادی طبی سہولتوں کی شدید قلت کے باعث اس مہلک وائرس کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔اور پھر اس کے بعد خشک سالی اور قحط کے بڑھتے ہوئے سائیوں نے حالات کو سنگین تر بنا دیا ہے۔

دنیا اسلم خان نے بتایا کہ یمن پہلے ہی سے عرب دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ اس کی تین کروڑ کی آبادی میں سے دو کروڑ 40 لاکھ لوگوں کی زندگی کا دار و مدار بین الاقوامی امداد پر ہے، کیونکہ جنگ کی وجہ ملک کا انفرا اسٹرکچر بالکل تباہ ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 40 لاکھ کے لگ بھگ افراد اپنے وطن میں ہی بے گھر ہو چکےہیں۔ جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔ صحت کا نظام بالکل برباد ہو چکا ہے۔ قحط سالی کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اور اگر اس سال کے آخر تک اقوام متحدہ کے اداروں کو مطلوبہ فنڈنگ نہ مل سکے تو بہت سے پروگراموں کو بند کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید تفصیلات اس آڈیو رپورٹ میں۔۔

XS
SM
MD
LG