رسائی کے لنکس

logo-print

کینیڈا میں 'پراسرار' طور پر ہلاک ہونے والی سیاسی کارکن کریمہ بلوچ کون تھیں؟


کریمہ بلوچ (فائل فوٹو)

کینیڈا میں رہائش پذیر پاکستان کے صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن کریمہ بلوچ کی لاش ٹورنٹو سے برآمد ہوئی ہے۔

پولیس نے کریمہ بلوچ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی ہے۔ تاہم ان کی لاش پاکستان لانے یا نہ لانے کے حوالے سے تا حال مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔

کریمہ کی بہن ماہ گنج کے مطابق ان کے بھائی سمیر محراب جو کہ کینیڈا میں ہی مقیم ہیں، انہوں نے کریمہ بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ماہ گنج نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ کریمہ بلوچ شادی شدہ تھیں۔ تاہم ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

ماہ گنج کا مزید کہنا تھا کہ کریمہ نے جدوجہد میں حصہ لاپتا افراد کی وجہ سے نہیں لیا تھا بلکہ وہ نظریاتی بنیادوں پر حقوق کے لیے سرگرم تھیں۔

ماہ گنج کے مطابق ان کے خاندان کے بہت سے لوگ لاپتا ہوئے ہیں اور ان کے ایک ماموں ماسٹر نور احمد کی لاش جنوری 2018 میں برآمد ہوئی تھی۔

ماہ گنج کا مزید کہنا تھا کہ کریمہ بلوچ کی زندگی کو پاکستان میں ہی خطرات تھے۔ ان کے بقول ان کے گھر پر کئی بار حملہ بھی ہوا تھا اور ان کو گرفتار کرنے کے لیے کئی بار گھر پر چھاپے بھی مارے گئے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود وہ اپنے لوگوں میں رہ کر کام کرنا چاہتی تھیں۔

ٹورنٹو پولیس کے مطابق کریمہ بلوچ اتوار سے پراسرار طور پر لاپتا تھیں۔ پولیس نے بھی کریمہ بلوچ کی گمشدگی پر ایک ٹوئٹ کیا تھا۔

ماہ گنج کا کریمہ سے متعلق مزید کہنا تھا کہ کریمہ نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ خود نہیں کیا، بلکہ بلوچستان اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (بی ایس او) نے لاپتا افراد کا مقدمہ لڑنے کے لیے انہیں باہر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کریمہ کینیڈا میں رہ کر بلوچستان میں جاری سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کے خلاف مظاہرے کرتی تھیں اور اس حوالے سے دیگر آگاہی پروگرام کا اہتمام بھی کرتی تھیں۔ ان کے بقول اس کے ساتھ انہوں نے کینڈا میں اپنی تعلیم بھی جاری رکھی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اسی طرح ایک پاکستانی صحافی ساجد حسین بھی یورپی ملک سوئیڈن میں لاپتا ہوئے تھے۔ بعد ازاں جن کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

ادھر بلوچستان میں انسانی حقوق کی متحرک کارکن ماہ رنگ بلوچ نے کینیڈا میں کریمہ بلوچ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے واقع کو بلوچ نسل کشی قرار دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچ اب اس دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اس سے پہلے ساجد حسین کو بھی اسی طرح سویڈن میھیں قتل کیا گیا۔

ماہ رنگ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ کریمہ بلوچ کا قتل نہ صرف متحرک بلوچ خواتین کارکنوں بلکہ پورے بلوچ سماج کو خوف زدہ کرنے کی سازش ہے۔

ماہ رنگ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچوں کے ساتھ ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ان کا نوٹس لے۔

کریمہ بلوچ کون تھیں؟

کریمہ بلوچ سن 1986 میں دبئی میں پیدا ہوئیں۔ تاہم کچھ سال بعد اُن کے والدین بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ منتقل ہو گئے۔

شبیر بلوچ دو سال سے لاپتا، اہل خانہ کی بھوک ہڑتال
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:22 0:00

کریمہ بلوچ نے ابتدائی تعلیم تمپ سے ہی حاصل کی۔ بچپن سے ان کا رجحان آرٹ کی جانب تھا اور وہ اسکول کے ہر پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔

کریمہ کے خاندان کے افراد کے مطابق وہ بچپن سے ہی انقلابی لٹریچر پڑھنے کی شوقین تھیں اور لوگوں کی غربت اور سیاسی بدحالی، وہ بنیادی وجوہات تھیں جنہوں نے کریمہ بلوچ کو اسکول کے زمانے سے ہی سیاسی سرگرمیوں کے لیے متحرک کیا تھا۔

انہیں شاعری کا بہت شوق تھا۔ کریمہ بلوچ خود بھی اردو اور بلوچی زبان میں شعر لکھتی تھی۔

بی ایس او کے پلیٹ فارم سے جدو جہد کا آغاز

کریمہ بلوچ اسکول کے زمانے سے ہی بی ایس او میں شامل ہونا چاہتی تھیں۔ اس کے لیے کریمہ نے اپنی سہیلیوں کوبھی راضی کیا تھا لیکن اُس زمانے میں لڑکیوں کو رکنیت دینا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے انہیں رکنیت نہیں ملی۔

سن 2005 میں کریمہ بلوچ نے خواتین کو جمع کر کے بلوچ قوم پرست پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی گرفتاری کے خلاف ریلی نکالی۔ یہ ریلی مکران کی تاریخ میں خواتین کی پہلی سیاسی ریلی تھی۔

سن 2006 میں کریمہ بلوچ باقاعدہ بی ایس او میں شامل ہو گئیں۔ سیاست میں شامل ہونے کی وجہ سے کریمہ کو بہت زیادہ سماجی دباؤ کا سامنا رہا۔ لیکن انہوں نے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور 2008 کی کونسل سیشن میں وائس چیئرپرسن منتخب ہو ئیں۔

منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کریمہ بلوچ کی ہلاکت کا واقعہ ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کریمہ بلوچ کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا وہ بلوچ قوم کی دلیر بیٹی تھیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' کے جنوبی ایشیا چیپٹر نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں کارکن کریمہ بلوچ کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG