رسائی کے لنکس

2017ء میں 81 صحافی مارے گئے، خطرات میں شدید اضافہ: رپورٹ


مالٹا میں صحافی خاتون کو کار بم دھماکے میں ہلاکت ہوئی

دنیا کی ایک موقر بین الاقوامی صحافتی تنظیم کے مطابق اس سال کم ازکم 81 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے گئے جب کہ صحافتی شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے شدید خطرات کا سامنا رہا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس "آئی ایف جے" کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر یہ صحافی ہدف بنا کر قتل، کار بم دھماکوں اور فائرنگ کی زد میں آنے کے باعث ہلاک ہوئے۔

2017ء میں 250 سے زائد صحافیوں کو قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

29 دسمبر تک کے جمع کیے گئے یہ اعدادوشمار ایک دہائی میں کسی ایک ہی سال میں صحافیوں کی سب سے کم ہلاکتیں ہیں، گزشتہ سال دنیا بھر میں 93 صحافی مارے گئے تھے۔

صحافیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں میکسیکو میں ہوئیں لیکن متعدد افغانستان، عراق اور شام میں جنگ والے علاقوں میں مارے گئے۔

آئی ایف جے کے صدر فلپ لیروتھ کا کہنا تھا کہ گو کہ ہلاکتوں میں کمی ظاہر ہوئی ہے لیکن صحافت کے خلاف تشدد کی سطح اب بھی ناقابل قبول حد تک بلند ہے۔

ان کے بقول آئی ایف جے کو یہ بھی معلوم ہوا "جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ ہلاکتوں میں اس کمی کا تعلق کسی بھی حکومت کی طرف سے صحافیوں کے خلاف جرائم سے نمٹنے اقدام سے نہیں ہے۔"

مارے جانے والے صحافیوں میں آٹھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں جن میں سے یورپی ملکوں ڈنمارک اور مالٹا میں ماری گئیں۔

آئی ایف جے نے متنبہ کیا کہ "غیر معمولی تعداد میں صحافیوں کو جیلوں میں بھی ڈالا گیا، بہت سے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، صحافیوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، اور صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات تشویشناک حد تک زیادہ رہے ہیں۔"

تنظیم کے اعدادو شمار کے مطابق مندرجہ ذیل دس ملکوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کچھ یوں رہی۔

میکسیکو 13، افغانستان 11، عراق 11، شام 10، بھارت 6، فلپائن 4، پاکستان 4، نائیجیریا 3، صومالیہ 3 اور ہونڈراس میں بھی 3۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG